السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير التسليم على المصلي باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نمازی پر سلام کرنا درست نہیں سمجھا
قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ دَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ مَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ.ابو سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر میں کسی ایسی قوم کے پاس جاؤں جو نماز پڑھ رہی ہو تو میں انہیں سلام نہیں کروں گا۔“
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِيمَا أَرَى أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَتْغِرِيرُ الرَّجُلِ بِصَلَاتِهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، كَذَا فِي كِتَابِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى: أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، وَهَذَا اللَّفْظُ أَقْرَبُ إِلَى تَفْسِيرِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ يَعْنِي عَنْ أَبِي مَالِكٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز اور سلام کا جواب دینے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔“
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلام کے متعلق غرار سے مراد یہ ہے کہ حالت نماز میں نہ تو کسی کو سلام کرے اور نہ کوئی تجھے سلام کرے اور نماز کے متعلق غرار یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز سے فارغ ہو، پھر شک میں پڑ جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے بھی یہی الفاظ منقول ہیں کہ نماز اور سلام کا جواب دینے میں سستی نہ ہونے پائے۔
(د) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ دوران نماز نہ تم کسی کو سلام کرو نہ کوئی تمہیں سلام کرے اور نماز میں غرار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر سلام پھیر لے لیکن وہ نماز کے بارے میں شک میں مبتلا ہو۔ یہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تفسیر کے مطابق ہے۔
(ہ) ایک قول کے مطابق «لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ» ”سلام اور نماز میں کوئی کمی نہیں ہے۔“ ہے۔