حدیث نمبر: 3410
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: كُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلَاةِ وَنَأْمُرُ بِحَاجَتِنَا فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ فَأَخَذَنِي مَا قَدُمَ وَمَا حَدُثَ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ قَالَ: " إِنَّ اللهَ يُحْدِثُ مِنْ أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ وَإِنَّ اللهَ قَدْ أَحْدَثَ أَنْ لَا تَكَلَّمُوا فِي الصَّلَاةِ " فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نماز میں سلام اور ضرورت کی بات کر لیا کرتے تھے۔ میں (حبشہ سے واپسی پر) رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوا، آپ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے سلام کا جواب نہ دیا۔ مجھے نئی اور پرانی باتوں کی فکر لاحق ہوئی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے نماز مکمل کر لی تو فرمایا: ”اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے، نیا حکم نازل فرما دیتا ہے، اب اللہ تعالیٰ کا حکم یہ ہے کہ تم نماز میں باتیں نہ کیا کرو۔“ پھر آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب دیا۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3410
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه ابوداؤد 928»