السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم ير التسليم على المصلي باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نمازی پر سلام کرنا درست نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3412
وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ " لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ وَهَذَا اللَّفْظُ يَقْتَضِي نَفْيَ الْغِرَارِ، عَنِ الصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيمِ جَمِيعًا وَالْأَخْبَارُ الَّتِي مَضَتْ تُبِيحُ التَّسْلِيمَ عَلَى الْمُصَلِّي وَالرَّدَّ بِالْإِشَارَةِ، وَهِيَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
یہ لفظ سلام اور نماز دونوں میں سستی کی نفی کرتا ہے۔ گزشتہ احادیث نمازی پر سلام کرنے اور نمازی کے اشارے کے ساتھ جواب دینے کو مباح قرار دیتی ہیں اور یہی (احادیث) نقل کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔“