کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نمازی پر سلام کرنا درست نہیں سمجھا
حدیث نمبر: 3411
قَالَ: أَبُو سُفْيَانَ قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَوْ دَخَلْتُ عَلَى قَوْمٍ وَهُمْ يُصَلُّونَ مَا سَلَّمْتُ عَلَيْهِمْ.
حافظ ثناء اللہ
ابو سفیان کہتے ہیں کہ سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”اگر میں کسی ایسی قوم کے پاس جاؤں جو نماز پڑھ رہی ہو تو میں انہیں سلام نہیں کروں گا۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3411
حدیث نمبر: 3411
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ قَالَا: ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: فِيمَا أَرَى أَنَّهُ أَرَادَ أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ، وَتْغِرِيرُ الرَّجُلِ بِصَلَاتِهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، كَذَا فِي كِتَابِي، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، أنبأ أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " لَا غِرَارَ فِي صَلَاةٍ وَلَا تَسْلِيمٍ " قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَعْنِي فِيمَا أَرَى: أَنْ لَا تُسَلِّمَ وَيُسَلَّمَ عَلَيْكَ وَيُغَرِّرُ الرَّجُلُ بِصَلَاتِهِ فَيَنْصَرِفُ وَهُوَ فِيهَا شَاكٌّ، وَهَذَا اللَّفْظُ أَقْرَبُ إِلَى تَفْسِيرِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ قَالَ أَبُو دَاوُدَ رَوَاهُ ابْنُ فُضَيْلٍ يَعْنِي عَنْ أَبِي مَالِكٍ عَلَى لَفْظِ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَلَمْ يَرْفَعْهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”نماز اور سلام کا جواب دینے میں کسی قسم کی کمی نہیں ہونی چاہیے۔“
(ب) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلام کے متعلق غرار سے مراد یہ ہے کہ حالت نماز میں نہ تو کسی کو سلام کرے اور نہ کوئی تجھے سلام کرے اور نماز کے متعلق غرار یہ ہے کہ جب کوئی آدمی نماز سے فارغ ہو، پھر شک میں پڑ جائے کہ تین رکعتیں پڑھی ہیں یا چار؟ اسی طرح میری کتاب میں ہے۔
(ج) ایک دوسری سند سے بھی یہی الفاظ منقول ہیں کہ نماز اور سلام کا جواب دینے میں سستی نہ ہونے پائے۔
(د) امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ کی مراد یہ ہے کہ دوران نماز نہ تم کسی کو سلام کرو نہ کوئی تمہیں سلام کرے اور نماز میں غرار کا مطلب یہ ہے کہ آدمی نماز پڑھ کر سلام پھیر لے لیکن وہ نماز کے بارے میں شک میں مبتلا ہو۔ یہ احمد بن حنبل رحمہ اللہ کی تفسیر کے مطابق ہے۔
(ہ) ایک قول کے مطابق «لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ» ”سلام اور نماز میں کوئی کمی نہیں ہے۔“ ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3411
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابوداود 928»
حدیث نمبر: 3412
وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ سُفْيَانَ، بِإِسْنَادِهِ قَالَ: أُرَاهُ رَفَعَهُ قَالَ " لَا غِرَارَ فِي تَسْلِيمٍ وَلَا صَلَاةٍ " أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ الْفَقِيهُ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ عَنْ سُفْيَانَ فَذَكَرَهُ وَهَذَا اللَّفْظُ يَقْتَضِي نَفْيَ الْغِرَارِ، عَنِ الصَّلَاةِ وَالتَّسْلِيمِ جَمِيعًا وَالْأَخْبَارُ الَّتِي مَضَتْ تُبِيحُ التَّسْلِيمَ عَلَى الْمُصَلِّي وَالرَّدَّ بِالْإِشَارَةِ، وَهِيَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
یہ لفظ سلام اور نماز دونوں میں سستی کی نفی کرتا ہے۔ گزشتہ احادیث نمازی پر سلام کرنے اور نمازی کے اشارے کے ساتھ جواب دینے کو مباح قرار دیتی ہیں اور یہی (احادیث) نقل کرنے کے زیادہ لائق ہیں۔ «وَبِاللّٰهِ التَّوْفِیْقُ» ”اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 3412
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ تقدم في الذي قبله»