السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 338
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، وَأَبُو الْقَاسِمِ طَلْحَةُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الصَّقْرِ بِبَغْدَادَ، قَالَا: ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ ⦗١١٧⦘ مُحَمَّدٍ، ثنا أَبُو الْجَوَّابِ، ثنا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنَّهُ قَالَ: " اغْسِلُوا الْقَدْمَيْنِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أُمِرْتُمْ ". وَرُوِّينَا فِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ: " ثُمَّ يَغْسِلُ قَدْمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ، كَمَا أَمَرَهُ اللهُ تَعَالَى " وَفِي ذَلِكَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ اللهَ تَعَالَى أَمَرَ بِغَسْلِهِمَا.حافظ ثناء اللہ
(الف) سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قدموں کو ٹخنوں تک اس طرح دھوؤ جس طرح تم کو حکم دیا گیا ہے۔
(ب) سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے وضو کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک اس طرح دھویا جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں حکم دیا ہے۔ اس کی دلیل ہے کہ اللہ نے پاؤں دھونے کا حکم دیا ہے۔