السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 337
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، وَأَبُو سَعِيدٍ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ حَسَّانَ الثَّوْرِيُّ أَنَّهُ قَرَأَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي مُحَمَّدٍ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ، وَكَانَ عَالِمًا بِوُجُوهِ الْقِرَاءَاتِ، وَذَكَرَ فِيهَا: " {وَأَرْجُلَكُمْ} [المائدة: ٦] مُنْتَصِبَ اللَّامِ ". وَبَلَغَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ التَّيْمِيِّ أَنَّهُ كَانَ يَقْرَؤُهَا نَصْبًا، وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَامِرٍ الْيَحْصِبِيِّ، وَعَنْ عَاصِمٍ بِرِوَايَةِ حَفْصٍ، وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ مِنْ رِوَايَةِ الْأَعْشَى، وَعَنِ الْكِسَائِيِّ كُلُّ هَؤُلَاءِ نَصَبُوهَا، وَمَنْ خَفَضَهَا فَإِنَّمَا هُوَ لِلْمُجَاوَرَةِ. قَالَ الْأَعْمَشُ: كَانُوا يَقْرَءُونَهَا بِالْخَفْضِ، وَكَانُوا يَغْسِلُونَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) ولید بن حسان ثوری نے ابو محمد یعقوب بن اسحاق بن یزید حضرمی پر قرآن پڑھا اور وہ قرآن کی قراءتوں کے عالم تھے، انہوں نے بھی ﴿وَأَرْجُلَكُمْ﴾ [سورة المائدة: 6] کو منصوب پڑھا ہے۔
(ب) ابراہیم بن یزید تیمی بھی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے۔
(ج) کسائی فرماتے ہیں کہ تمام نحوی اس کو منصوب پڑھا کرتے تھے اور جس نے اس کو مجرور پڑھا ہے وہ قریب ہونے کی بنا پر پڑھا ہے۔
(د) اعمش فرماتے ہیں: وہ اسے مجرور پڑھتے تھے اور پاؤں دھوتے تھے۔