السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: قراءة من قرأ وأرجلكم نصبا وأن الأمر رجع إلى الغسل وأن من قرأها خفضا فإنما هو للمجاورة باب: اس شخص کی قراءت کا بیان جس نے ”وأرجلكم“ کو نصب کے ساتھ پڑھا اور یہ کہ حکم دھونے کی طرف لوٹتا ہے، اور جس نے اسے جر (زیر) کے ساتھ پڑھا تو وہ محض مجاورت (پڑوس) کی وجہ سے ہے
حدیث نمبر: 339
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى بْنِ الْفَضْلِ، قَالَا: أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا حُمَيْدٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: خَطَبَ الْحَجَّاجُ بْنُ يُوسُفَ النَّاسَ فَقَالَ: اغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ، فَاغْسِلُوا ظَاهِرَهُمَا وَبَاطِنَهُمَا وَعَرَاقِيبَهُمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ أَقْرَبُ إِلَى جَنَّتِكُمْ. فَقَالَ أَنَسٌ: صَدَقَ اللهُ، وَكَذَبَ الْحَجَّاجُ فَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلِكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ. قَالَ: قَرَأَهَا جَرًّا، فَإِنْمَا أَنْكَرَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ الْقِرَاءَةَ دُونَ الْغَسْلِ، فَقَدْ رُوِّينَا عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا دَلَّ عَلَى وُجُوبِ الْغَسْلِ.حافظ ثناء اللہ
موسیٰ بن انس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حجاج بن یوسف نے لوگوں کو خطبہ دیا کہ اپنے چہروں، ہاتھوں اور پاؤں کو دھوؤ اور اس کے ظاہری اور اندرونی اور اوپر والے حصے کو دھوؤ، بیشک یہ تمہاری جنت کے زیادہ قریب ہے (یعنی جنت میں لے جانے کا سبب ہے)۔
(ب) سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ نے سچ کہا اور حجاج نے جھوٹ کہا: وہ «أَرْجُلِكُمْ» کو مجرور پڑھتے تھے۔
(ج) سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اس قراءت کا انکار کیا ہے جس میں غسل کا تذکرہ نہیں ہے۔ اسی طرح ہم نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی وہ روایت بیان کی ہے جس میں غسل کے وجوب کا ذکر ہے۔