السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في النفخ في موضع السجود باب: سجدے کی جگہ پر پھونک مارنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ صَلَاةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ نَفَخَ فِي آخِرِ سُجُودِهِ، فَقَالَ: " أُفْ أُفْ " ثُمَّ قَالَ: " رَبِّ أَلَمْ تَعِدْنِي أَلَّا تُعَذِّبَهُمْ وَأَنَا فِيهِمْ، أَلَمْ تَعِدْنِي أَنْ لَا تُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ " فَفَرَغَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِهِ وَقَدِ امَّحَصَتِ الشَّمْسُ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَالَّذِي يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ هَذَا نَفْخًا يُشْبِهُ الْغَطِيطَ، وَذَلِكَ لَمَّا عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ تَعْذِيبِ بَعْضِ مَنْ وَجَبَ عَلَيْهِ الْعَذَابُ، فَلَيْسَ غَيْرُهُ فِي التَّأْفِيفِ فِي الصَّلَاةِ كَهُوَ بِأَبِي هُوَ وَأُمِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا لَمْ يَكُنْ كَهُوَ فِي رُؤْيَةِ مَا رَأَى مِنْ تَعْذِيبِهِمْ. وَقَدْ رَوَاهُ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ، عَنْ عَطَاءٍ فَقَالَ: " وَجَعَلَ يَنْفُخُ فِي آخِرِ سُجُودِهِ مِنَ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَيَبْكِي وَلَمْ يَذْكُرِ التَّأْفِيفَ، وَرَوَاهُ أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ السَّائِبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو فَذَكَرَ النَّفْخَ دُونَ التَّأْفِيفِ وَزَعَمَ أَبُو سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيُّ رَحِمَهُ اللهُ أَنَّ قَوْلَهُ أُفْ لَا يَكُونُ كَلَامًا حَتَّى يُشَدِّدَ الْفَاءَ فَتَكُونَ ثَلَاثَةَ أَحْرُفٍ مِنَ التَّأْفِيفِ قَالَ: وَالنَّافِخُ لَا يُخْرِجُ الْفَاءَ فِي نَفْخِهِ مُشَدَّدَةً وَلَا يَكَادُ يُخْرِجَهَا فَاءً صَادِقَةً مِنْ مَخْرَجِهَا.سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، پھر انہوں نے نبی ﷺ کی نماز کا تذکرہ کیا کہ پھر آپ ﷺ نے آخری سجدوں کے بعد پھونک ماری اور فرمایا: «أُفٍّ أُفٍّ» ”اُف اُف“، پھر فرمایا: ”اے میرے پروردگار! کیا آپ نے مجھ سے وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک میں ان میں ہوں، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟ کیا آپ نے یہ وعدہ نہیں فرمایا کہ جب تک وہ استغفار کرتے رہیں گے، آپ انہیں عذاب نہیں دیں گے؟“ رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے تو سورج صاف ہو چکا تھا۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: زیادہ قرین قیاس یہ ہے کہ یہ پھونک خراٹوں کی آواز کے مشابہ تھی؛ اس لیے کہ اس وقت آپ ﷺ کے سامنے ان لوگوں کے عذاب کا منظر پیش کیا گیا جن پر عذاب واجب ہو چکا تھا۔ لہٰذا نماز میں «أُفٍّ» ”اف“ کہنے کے معاملے میں کوئی دوسرا آپ ﷺ کی طرح نہیں ہے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، جس طرح ان کے عذاب کو دیکھنے میں کوئی آپ ﷺ کی طرح نہیں تھا۔
عبدالعزیز بن عبدالصمد، عطاء سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ کی دوسری رکعت کے آخری سجدے میں سانس کی آواز سنائی دے رہی تھی، یعنی سانس پھولی ہوئی تھی اور آپ ﷺ رو رہے تھے۔ انہوں نے «أُفٍّ أُفٍّ» ”اف اف“ کا ذکر نہیں کیا۔
ابواسحاق، سائب بن مالک سے اور وہ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے «تَأْفِيف» ”تافیف“ کی جگہ «نَفْخ» ”نفح“ کا ذکر کیا۔
ابو سلیمان خطابی رحمہ اللہ کا دعویٰ ہے کہ «أُفّ» ”اف“ اس وقت تک کلام نہیں ہے جب تک فاء مشدد نہ ہو، مشدد ہونے کی صورت میں وہ باب «تَأْفِيف» ”تافیف“ سے تین حرف ہو جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پھونکنے والا اپنی سانس میں فاء مشدد ادا نہیں کرتا اور نہ ہی وہ فاء کو مخرج کے مطابق نکال سکتا ہے۔