السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما جاء في النفخ في موضع السجود باب: سجدے کی جگہ پر پھونک مارنے کے متعلق جو مروی ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 3363
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ الْأَزْدِيُّ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ فَدَخَلَ عَلَيْهَا ذُو قَرَابَةٍ لَهَا شَابٌّ ذُو جُمَّةٍ فَقَامَ يُصَلِّي وَيَنْفُخُ، فَقَالَتْ: يَا بُنِيَّ لَا تَنْفُخُ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِعَبْدٍ لَنَا أَسْوَدَ: " أَيْ رَبَاحُ تَرِّبْ وَجْهَكَ " كَذَا رَوَاهُ جَمَاعَةٌ مِنَ الْأَئِمَّةِ نَحْوُ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ وَغَيْرِهِ، عَنْ مَيْمُونٍ أَبِي حَمْزَةَ وَلَمْ أَكْتُبْهُ مِنْ حَدِيثِ غَيْرِهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ وَرُوِيَ فِيهِ حَدِيثٌ آخَرُ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ مَرْفُوعًا وَهُوَ ضَعِيفٌ بِمَرَّةٍ.حافظ ثناء اللہ
ابو صالح بیان کرتے ہیں کہ میں سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، ان کے پاس ان کا کوئی قریبی رشتہ دار آیا، اس کے ساتھ اس کا نوجوان بیٹا تھا جس کی پیشانی کے بال گھنے تھے، وہ کھڑا ہو کر نماز پڑھنے لگا اور پھونکنے لگا تو انہوں نے فرمایا: میرے بیٹے! پھونکیں مت مار، میں نے رسول اللہ ﷺ کو حبشی غلام کو کہتے ہوئے سنا: ”اے نوجوان! اپنے چہرے کو مٹی لگا (یعنی اپنی پیشانی کو زمین پر رکھ)۔“