السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من تبسم في صلاته أو ضحك فيها باب: اس شخص کا بیان جو اپنی نماز میں مسکرایا یا اس میں ہنسا
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو يَعْلَى، أنبأ عَمْرٌو النَّاقِدُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ الْجَزَرِيُّ، ثنا الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ إِذْ تَبَسَّمَ فِي صَلَاتِهِ فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللهِ، رَأَيْنَاكَ تَبَسَّمْتَ قَالَ: " مَرَّ بِي مِيكَائِيلُ وَعَلَى جَنَاحِهِ أَثَرُ غُبَارٍ وَهُوَ رَاجِعٌ مِنْ طَلَبِ الْقَوْمِ فَضَحِكَ إِلَيَّ فَتَبَسَّمْتُ إِلَيْهِ " ⦗٣٥٨⦘ الْوَازِعُ بْنُ نَافِعٍ الْعُقَيْلِيُّ الْجَزَرِيُّ تَكَلَّمُوا فِيهِ وَقَدْ حَكَاهُ الْوَاقِدِيُّ فِي الْمَغَازِي وَقَدْ رُوِّينَا فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ فِي مَنْ ضَحِكَ فِي الصَّلَاةِ يُعِيدُ الصَّلَاةَ وَلَا يُعِيدُ الْوُضُوءَ وَرُوِّينَا عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ أَنَّهُ قَالَ فِي قِصَّةٍ مَحْكِيَّةٍ عَنْهُ: " مَنْ كَانَ ضَحِكَ مِنْكُمْ فَلْيُعِدِ الصَّلَاةَ " وَيُذْكَرُ مِثْلُ ذَلِكَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے، آپ ﷺ دورانِ نماز مسکرائے۔ جب آپ ﷺ نے اپنی نماز مکمل کی تو ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے آپ کو مسکراتے دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میرے پاس سے میکائیل علیہ السلام گزرے، ان کے پروں پر گرد و غبار کے نشان تھے اور وہ لوگوں کی طلب سے واپس آ رہے تھے۔ وہ میری طرف دیکھ کر ہنسے تو میں بھی مسکرا دیا۔“
ہم کتاب الطہارۃ میں ابوسفیان سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہما کی روایت بیان کر چکے ہیں۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جو نماز میں ہنسا تھا، یعنی وہ نماز کو لوٹائے لیکن وضو کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
ہم سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے ان سے منقول قصہ میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ ”تم میں سے جو ہنسے تو وہ نماز لوٹا لے۔“ اسی طرح کی روایت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی ہے۔