السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في حفظ وقت الصلاة والتشديد على من أضاعه باب: نماز کے وقت کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور اسے ضائع کرنے والے پر سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3165
حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْحُسَيْنِيُّ رَحِمَهُ اللهُ إِمْلَاءً أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَلَّوَيْهِ الدَّقَّاقُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ أَخْبَرَنِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ يَقُولُ: أَخْبَرَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: " الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا " قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: " بِرُّ الْوَالِدَيْنِ " قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّ؟ قَالَ: " الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي " ⦗٣٠٥⦘ هَكَذَا أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ شُعْبَةَ.حافظ ثناء اللہ
ولید بن عیزار بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو عمرو شیبانی سے سنا کہ مجھے اس گھر والے نے بیان کیا، انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا کہ میں نے نبی ﷺ سے پوچھا: ”کون سا کام اللہ تعالیٰ کو زیادہ پسند ہے؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نماز کو اپنے وقت پر پڑھنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا کام؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ماں باپ سے اچھا سلوک کرنا۔“ میں نے پوچھا: پھر کون سا؟ فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا۔“ ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ تین باتیں بیان کیں۔ اگر میں اور پوچھتا تو آپ ﷺ اور زیادہ بیان کرتے۔