السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الترغيب في حفظ وقت الصلاة والتشديد على من أضاعه باب: نماز کے وقت کی حفاظت کرنے کی ترغیب اور اسے ضائع کرنے والے پر سختی کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْبَلَدِيُّ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا أَبُو غَسَّانَ يَعْنِي مُحَمَّدَ بْنَ مُطَرِّفٍ، ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ مُحَمَّدٌ هُوَ ابْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِي قَالَ: زَعَمَ أَبُو مُحَمَّدٍ أَنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذَبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، أَشْهَدُ أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ افْتَرَضَهُنَّ اللهُ مَنْ أَحْسَنَ وُضُوءَهُنَّ وَصَلَوَاتِهِنَّ لِوَقْتِهِنَّ وَأَتَمَّ رُكُوعَهُنَّ وَخُشُوعَهُنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ، وَمَنْ لَمْ يَفْعَلْ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ غَفَرَ لَهُ وَإِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ " لَيْسَ فِي حَدِيثِ آدَمَ ذِكْرُ الْوِتْرِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الصُّنَابِحِيِّ.حضرت عطاء بن یسار رحمہ اللہ اور عبداللہ صنابحی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابو محمد کا خیال یہ ہے کہ وتر واجب ہیں۔
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد کو غلط فہمی ہوئی ہے، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ رب العزت نے پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ جس شخص نے اچھی طرح وضو کیا، انہیں وقت پر ادا کیا، ان کے رکوع اطمینان سے کیے اور خشوع و خضوع کا خیال رکھا تو ایسے شخص کے لیے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اسے معاف فرمائے گا اور جو شخص ایسا نہ کرے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ کا کوئی وعدہ نہیں، اگر چاہے تو معاف کر دے اور اگر چاہے تو عذاب دے۔“