السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: مسح الأذنين بماء جديد باب: نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ذُكِرَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ. قَالَ: وَقَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَبِي أُمَامَةَ يَعْنِي قِصَّةَ الْأُذُنَيْنِ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ: كَذَا فِي كِتَابِي: الْمَاقَيْنِ، وَهُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ ابْنِ دَاسَةَ: الْمَاقَيْنِ، فَسَّرَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ بِطَرْفِ الْعَيْنِ الَّذِي يَلِي الْأَنْفَ، وَهُوَ مَخْرَجُ الدَّمْعِ، وَالَّذِي رُوِيَ مِنْ مَسْحِهِ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ فِي بَعْضِ مَا مَضَى مُجْمَلًا كَيْفِيَّتُهُ مَوْجُودَةٌ فِيمَا.سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے وضو کا تذکرہ کیا، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی کن پٹیوں کا مسح کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (ج) حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی ﷺ کا قول ہے یا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا۔
(د) ابو سنان ربیعہ رحمہ اللہ کی کتاب میں «مَأْقَيْنِ» کے الفاظ ہیں، ابن داسہ رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے «مَأْقَيْنِ» کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔