أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ الْعَنْزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ زَيْدٍ يَذْكُرُ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَتَوَضَّأُ فَأَخَذَ لِأُذُنَيْهِ مَاءً خِلَافَ الْمَاءِ الَّذِي أَخَذَ لِرَأْسِهِ ". وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ. وَكَذَلِكَ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عِمْرَانَ بْنِ مِقْلَاصٍ، وَحَرْمَلَةَ بْنِ يَحْيَى، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، آپ ﷺ نے کانوں کے لیے اس پانی کے علاوہ پانی لیا جو آپ ﷺ نے اپنے سر کے لیے لیا تھا (یعنی مسح کے لیے نیا پانی لیا)۔
یہ سند صحیح ہے۔
یہ سند صحیح ہے۔
وَرَوَاهُ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ مَعْرُوفٍ، وَهَارُونَ بْنِ سَعِيدٍ الْأَيْلِيِّ، وَأَبِي الطَّاهِرِ، عَنِ ابْنِ وَهْبٍ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ فَذَكَرَ وُضُوءَهُ قَالَ: وَمَسَحَ رَأْسَهُ بِمَاءٍ غَيْرِ فَضْلِ يَدَيْهِ وَلَمْ يَذْكُرِ الْأُذُنَيْنِ. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ يَعْنِي أَبَا طَاهِرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ فَذَكَرَهُ، ⦗١٠٨⦘ وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الَّذِي قَبْلَهُ.
حافظ ثناء اللہ
ابن وہب صحیح سند سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، پھر آپ ﷺ کے وضو کا طریقہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کے بچے ہوئے پانی کے علاوہ اپنے سر کا مسح کیا، لیکن کانوں کا ذکر نہیں کیا۔
(ب) دوسری روایت پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
(ب) دوسری روایت پہلی روایت سے زیادہ صحیح ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصِ بْنِ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ كَانَ يُعِيدُ أُصْبُعَيْهِ فِي الْمَاءِ فَيَمْسَحُ بِهِمَا أُذُنَيْهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب وضو کرتے تھے تو اپنے کانوں کے لیے اپنی انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنا جَدِّي أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، قَالَ: ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ يَأْخُذُ الْمَاءَ بِأُصْبُعَيْهِ لِأُذُنَيْهِ، وَأَمَّا مَا رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". فَرُوِيَ ذَلِكَ بِأَسَانِيدَ ضِعَافٍ ذَكَرْنَاهَا فِي الْخِلَافِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کانوں کے مسح کے لیے انگلیوں کے ساتھ پانی لیتے تھے اور نبی ﷺ سے منقول روایت میں ”کان سر کا حصہ ہیں“۔ یہ روایت ضعیف اسناد کے ساتھ منقول ہے، جنہیں ہم نے (اپنی کتاب) الخلاف میں ذکر کر دیا ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، وَأَبُو الرَّبِيعِ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، ثنا سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا وَيَدَيْهِ ثَلَاثًا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَقَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ". وَكَانَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ. وَهَذَا الْحَدِيثُ يُقَالُ فِيهِ مِنْ وَجْهَيْنِ: أَحَدُهُمَا ضَعْفُ بَعْضِ الرُّوَاةِ، وَالْآخَرُ دُخُولُ الشَّكِّ فِي رَفْعِهِ. وَبِصِحَّةِ ذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، يَقُولُ: سِنَانُ بْنُ رَبِيعَةَ يُحَدِّثُ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ لَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْخَلَّالُ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، وَذُكِرَ عِنْدَهُ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، فَقَالَ: إِنَّ شَهْرًا تَرَكُوهُ. قَوْلُهُ تَرَكُوهُ: أَيْ طَعَنْوا فِيهِ وَأَخَذَتْهُ أَلْسِنَةُ النَّاسِ. ⦗١٠٩⦘ وَبِإِسْنَادِهِ ثنا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، ثنا شَبَابَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ شُعْبَةَ، يَقُولُ: كَانَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ رَافَقَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الشَّامِ فَسَرَقَ عَيْبَتَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا أَبِي، قَالَ: كَانَ شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَخَذَ خَرِيطَةً فِيهَا دَرَاهِمُ، فَقَالَ الْقَائِلُ:.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا، اپنے چہرے اور ہاتھوں کو تین مرتبہ دھویا اور اپنے سر کا مسح کیا اور فرمایا: «الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ”کان سر کا حصہ ہیں“ اور آپ ﷺ آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کرتے تھے۔
(ب) اس حدیث میں دو لحاظ سے کلام ہے: 1 بعض راوی ضعیف ہیں 2 اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنان بن ربیعہ جو حماد بن زید سے نقل کرتا ہے قوی نہیں۔
(د) ابن عون رحمہ اللہ کے پاس شہر بن حوشب کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: شہر کے بارے میں لوگوں نے طعن کیا ہے۔
(ر) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب اہل شام میں سے کسی شخص کا ہم سفر بنا تو اس کا (سامان کا) تھیلا چرا لیا۔
(س) ابوبکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب کی ذمہ داری بیت المال پر تھی تو اس نے درہموں کی ایک تھیلی چرا لی تو کسی نے کہا: شہر نے اپنا دین ایک تھیلی کے عوض بیچ دیا ہے۔ اے شہر! تیرے بعد قراء کیسے محفوظ رہیں گے۔
(ش) موسیٰ بن ہارون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ اس میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ب) اس حدیث میں دو لحاظ سے کلام ہے: 1 بعض راوی ضعیف ہیں 2 اس کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
(ج) یحییٰ بن معین رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنان بن ربیعہ جو حماد بن زید سے نقل کرتا ہے قوی نہیں۔
(د) ابن عون رحمہ اللہ کے پاس شہر بن حوشب کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: شہر کے بارے میں لوگوں نے طعن کیا ہے۔
(ر) شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب اہل شام میں سے کسی شخص کا ہم سفر بنا تو اس کا (سامان کا) تھیلا چرا لیا۔
(س) ابوبکیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ شہر بن حوشب کی ذمہ داری بیت المال پر تھی تو اس نے درہموں کی ایک تھیلی چرا لی تو کسی نے کہا: شہر نے اپنا دین ایک تھیلی کے عوض بیچ دیا ہے۔ اے شہر! تیرے بعد قراء کیسے محفوظ رہیں گے۔
(ش) موسیٰ بن ہارون رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث ثابت نہیں۔ اس میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔ امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس روایت کے مرفوع ہونے میں شک ہے۔
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَاقَيْهِ بِالْمَاءِ ". وَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". ⦗١١٠⦘ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ إِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ، فَمَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ كَلِمَةً قَالَهَا سُلَيْمَانُ أَيْ أَخْطَأَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے وضو کا طریقہ منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ وضو کرتے تھے تو پانی سے اپنی آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کرتے تھے اور سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: «الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ ”کان سر کا حصہ ہیں“، یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا اس نے اسے بدل دیا (یا سلیمان نے اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا) یعنی اس نے غلطی کی ہے۔
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ ”کان سر کا حصہ ہیں“، یہ صرف سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا اس نے اسے بدل دیا (یا سلیمان نے اسی طرح کا کوئی کلمہ کہا) یعنی اس نے غلطی کی ہے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَقُتَيْبَةُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ ذُكِرَ وُضُوءُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ الْمَاقَيْنِ. قَالَ: وَقَالَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: يَقُولُهَا أَبُو أُمَامَةَ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ حَمَّادٌ: لَا أَدْرِي هُوَ مِنْ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَبِي أُمَامَةَ يَعْنِي قِصَّةَ الْأُذُنَيْنِ وَقَالَ قُتَيْبَةُ عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ: كَذَا فِي كِتَابِي: الْمَاقَيْنِ، وَهُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي سُلَيْمَانَ الْخَطَّابِيِّ، عَنِ ابْنِ دَاسَةَ: الْمَاقَيْنِ، فَسَّرَهُ أَبُو سُلَيْمَانَ بِطَرْفِ الْعَيْنِ الَّذِي يَلِي الْأَنْفَ، وَهُوَ مَخْرَجُ الدَّمْعِ، وَالَّذِي رُوِيَ مِنْ مَسْحِهِ رَأْسَهُ وَأُذُنَيْهِ فِي بَعْضِ مَا مَضَى مُجْمَلًا كَيْفِيَّتُهُ مَوْجُودَةٌ فِيمَا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ کے وضو کا تذکرہ کیا، فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ اپنی آنکھوں کے اندرونی کونوں کا مسح کیا کرتے تھے اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (ج) حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی ﷺ کا قول ہے یا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا۔
(د) قتیبہ رحمہ اللہ نے سنان بن ربیعہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: میری کتاب میں «مَأْقَيْنِ» کے الفاظ ہیں، ابن داسہ رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے «مَأْقَيْنِ» کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔
(ب) سلیمان بن حرب رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ (ج) حماد رحمہ اللہ کہتے ہیں: مجھے نہیں معلوم کہ یہ نبی ﷺ کا قول ہے یا سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ کا۔
(د) قتیبہ رحمہ اللہ نے سنان بن ربیعہ سے نقل کرتے ہوئے کہا: میری کتاب میں «مَأْقَيْنِ» کے الفاظ ہیں، ابن داسہ رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح ہے۔
(ر) ابو سلیمان رحمہ اللہ نے «مَأْقَيْنِ» کی تشریح کی ہے کہ آنکھ کا وہ کنارہ جو ناک کے ساتھ ملا ہوتا ہے اور وہ آنسوؤں کے نکلنے کی جگہ ہے۔ گزشتہ روایات میں سر اور دونوں کانوں کے مسح کا مجمل بیان ہے اور کیفیت اس روایت میں ہے۔
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ ⦗١١١⦘ الْحَدِيثَ قَالَ: " ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ، قَالَ: بِالْوُسْطَيَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ فِي بَاطِنِ أُذُنَيْهِ، وَالْإِبْهَامَيْنِ مِنْ وَرَاءِ أُذُنَيْهِ ". وَقَالَ أَصْحَابُنَا: فَكَأَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ مِنْ كُلِّ يَدٍ أُصْبُعَيْنِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَسْحِ الرَّأْسِ مَسَحَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں، پھر آپ ﷺ نے کچھ پانی لیا تو اس کے ساتھ سر کا مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے اندرونی حصے میں اپنی درمیانی انگلیوں سے اور انگوٹھوں سے اپنے کانوں کی پچھلی جانب کا مسح کیا۔ حسن۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ گویا آپ ﷺ دونوں ہاتھوں کی دو دو انگلیاں (سر کے مسح سے) الگ رکھتے تھے، پھر جب سر کے مسح سے فارغ ہوتے تو انہی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے تھے۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ گویا آپ ﷺ دونوں ہاتھوں کی دو دو انگلیاں (سر کے مسح سے) الگ رکھتے تھے، پھر جب سر کے مسح سے فارغ ہوتے تو انہی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے تھے۔
وَقَدْ رُوِيَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ: مَسَحُ أُذُنَيْهِ دَاخِلَهُمَا بِالسَّبَابَتَيْنِ، وَخَالَفَ بِإِبْهَامَيْهِ فَمَسَحَ بَاطِنَهُمَا وَظَاهِرَهُمَا. أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، أنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ.
حافظ ثناء اللہ
اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے ”اپنی دونوں سبابہ انگلیوں کو داخل کر کے اپنے کانوں کا مسح کیا اور انگوٹھوں کے ساتھ مخالف سمت میں مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے ظاہری اور اندرونی حصوں کا مسح کیا۔“ حسن، أخرجه ابن حبان: [1086]