السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: مسح الأذنين بماء جديد باب: نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 315
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَوَضَّأَ فَذَكَرَ ⦗١١١⦘ الْحَدِيثَ قَالَ: " ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ مَاءٍ فَمَسَحَ بِهِ رَأْسَهُ، قَالَ: بِالْوُسْطَيَيْنِ مِنْ أَصَابِعِهِ فِي بَاطِنِ أُذُنَيْهِ، وَالْإِبْهَامَيْنِ مِنْ وَرَاءِ أُذُنَيْهِ ". وَقَالَ أَصْحَابُنَا: فَكَأَنَّهُ كَانَ يَعْزِلُ مِنْ كُلِّ يَدٍ أُصْبُعَيْنِ، فَإِذَا فَرَغَ مِنْ مَسْحِ الرَّأْسِ مَسَحَ بِهِمَا أُذُنَيْهِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے وضو کیا، پھر لمبی حدیث بیان کی۔ فرماتے ہیں، پھر آپ ﷺ نے کچھ پانی لیا تو اس کے ساتھ سر کا مسح کیا، پھر اپنے کانوں کے اندرونی حصے میں اپنی درمیانی انگلیوں سے اور انگوٹھوں سے اپنے کانوں کی پچھلی جانب کا مسح کیا۔ حسن۔
(ب) ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ آپ ﷺ دونوں ہاتھوں کی دو انگلیوں کے ساتھ سر کا مسح کرنے کے بعد انہی انگلیوں کے ساتھ کانوں کا مسح کرتے تھے۔