السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: مسح الأذنين بماء جديد باب: نئے پانی کے ساتھ کانوں کا مسح کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 313
بِمَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ، أنا عَلِيٌّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ خُشَيْشٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ سِنَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ أَنَّهُ وَصَفَ وُضُوءَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " كَانَ إِذَا تَوَضَّأَ مَسَحَ مَاقَيْهِ بِالْمَاءِ ". وَقَالَ أَبُو أُمَامَةَ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ ". ⦗١١٠⦘ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ: " الْأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ إِنَّمَا هُوَ مِنْ قَوْلِ أَبِي أُمَامَةَ، فَمَنْ قَالَ غَيْرَ هَذَا فَقَدْ بَدَّلَ أَوْ كَلِمَةً قَالَهَا سُلَيْمَانُ أَيْ أَخْطَأَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے نبی کریم ﷺ کے وضو کا طریقہ منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب آپ ﷺ وضو کرتے تھے تو پانی سے اپنی کن پٹیوں کا مسح کرتے تھے اور فرمایا: «الأُذُنَانِ مِنَ الرَّأْسِ» ”کان سر کا حصہ ہیں۔“
(ب) سلیمان بن حرب فرماتے ہیں کہ ”کان سر کا حصہ ہیں“، یہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جس نے اس کے علاوہ کہا یا اس کو تبدیل کیا یا کوئی کلمہ کہا تو اس کا قائل سلیمان ہے یعنی اس نے غلطی کی ہے۔