السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ترك القنوت في سائر الصلوات غير الصبح عند ارتفاع النازلة وفي صلاة الصبح لقوم أو على قوم بأسمائهم أو قبائلهم باب: مصیبت کے ٹل جانے پر فجر کے علاوہ باقی نمازوں میں قنوت ترک کرنے اور فجر کی نماز میں کسی قوم کے لیے یا کسی قوم کے خلاف ان کے ناموں یا قبیلوں کے ساتھ قنوت ترک کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3103
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا قُدَامَةَ يَحْكِي عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ، فِي حَدِيثِ أَنَسٍ " قَنَتَ شَهْرًا ثُمَّ تَرَكَهُ " قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا تَرَكَ اللَّعْنَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک ماہ قنوت پڑھی، پھر چھوڑ دی۔ عبدالرحمن کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے صرف بددعا کرنی چھوڑی تھی۔