السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تَجْمَعُ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا حَيْثُ قَالَ: لَا تُوصَلُ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ، وَيَجْمَعُ الْإِمَامَ وَالْمَأْمُومَ وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَقَدْ نَقَلْتُهَا مَعَ أَثَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْإِمْلَاءِ فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْمَبْسُوطِ.حافظ ثناء اللہ
ابن جریج ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں مگر اس کے آخر میں ہے کہ جب میں نے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے امام کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت جمعہ وغیرہ کو شامل ہے جس طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”فرض نماز کے ساتھ نفل نماز کو نہ ملایا جائے“ امام اور مقتدی دونوں کو شامل ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مزنی رحمہ اللہ سے منقول روایت میں اس کا ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر سے نقل کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول مبسوط کی کتاب الجمعہ میں موجود ہے۔