السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ " أَنْ لَا نُوصِلَ صَلَاةً حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ.(ا) عمر بن عطاء بن ابی خوار بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انھیں سائب بن اختِ نمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھیں جو انھوں نے دورانِ نماز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔ انھوں نے فرمایا: جی ہاں! میں نے ان کے ساتھ مقصورہ کے مقام پر جمعہ کی نماز ادا کی، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ جب وہ تشریف لائے تو میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: یہ جو تم نے کیا ہے دوبارہ مت کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس کے ساتھ اس وقت کوئی نماز نہ ملاؤ حتیٰ کہ تم بات کر لو یا جگہ تبدیل کر لو۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”ہم فرض نماز کے بعد نفل نماز اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک کہ کوئی بات کر لیں یا اس جگہ کو چھوڑ دیں۔“
(ب) عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”فرض نماز کے بعد نفل نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات وغیرہ نہ کر لی جائے یا جگہ بدل لی جائے۔“