السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3049
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبِ، أنبأ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ مَوْضِعِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا، حَتَّى يَنْحَرِفَ أَوْ يَتَحَوَّلَ أَوْ يَفْصِلَ بِكَلَامٍ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا يَصْلُحُ لِلْإِمَامِ، وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ، وَقَالَ: " فَلْيَتَقَدَّمْ أَوْ لِيُكَلِّمْ أَحَدًا ".حافظ ثناء اللہ
(ا) عباد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ جب امام سلام پھیرے تو اپنی جگہ پر نفل پڑھنے کے لیے کھڑا نہ ہو، بلکہ رخ بدل لے اور پھر جائے یا بات وغیرہ کر لے۔
(ب) ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امام کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام کو یہ زیب نہیں دیتا۔
(ج) اور ہمیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے اس بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ امام تھوڑا آگے پیچھے ہو جائے یا کسی سے بات کر لے۔