کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3043
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا يُصَلِّي الْإِمَامُ فِي الْمَوْضِعِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ حَتَّى يَتَحَوَّلَ " ⦗٢٧١⦘ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: عَطَاءٌ الْخُرَسَانِيُّ لَمْ يُدْرِكِ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”امام اس جگہ پر نفل نماز نہ پڑھے جہاں اس نے فرض نماز پڑھی ہو بلکہ اپنی جگہ تبدیل کر لے۔“
حدیث نمبر: 3044
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَتَطَوَّعَ بَعْدَ الْفَرِيضَةِ فَلْيَتَقَدَّمْ أَوْ لِيَتَأَخَّرْ، أَوْ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ شِمَالِهِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی فرض نماز ادا کرنے کے بعد نفل نماز پڑھنے کا ارادہ کرے تو وہ وہاں سے تھوڑا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہو کر نماز پڑھے۔“
حدیث نمبر: 3045
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا مُعْتَمِرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَيَعْجِزُ أَحَدُكُمْ إِذَا صَلَّى فَأَرَادَ أَنْ يَتَطَوَّعَ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَوْ يَتَأَخَّرَ، أَوْ يَتَحَوَّلَ عَنْ يَمِينِهِ، أَوْ عَنْ يَسَارِهِ " وَرَوَاهُ جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ أَوْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ قَالَ الْبُخَارِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَصَحُّ وَاللَّيْثُ يَضْطَرِبُ فِيهِ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهُوَ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ يَتَفَرَّدُ بِهِ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ وہ فرض نماز ادا کرنے کے بعد نفل نماز پڑھنے کے لیے اس جگہ سے تھوڑا آگے پیچھے یا دائیں بائیں ہونے سے عاجز ہو؟“
حدیث نمبر: 3046
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا، يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ فَقَالَ: وَصَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ " فَصَلَّى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ، يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَقَالَ: " أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ قِيلَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ بِجَمْعِ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ وَكَذَلِكَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَفِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ هُوَ أَصَحُّ مِنْ جَمِيعِ مَا ذَكَرْنَاهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے امام ابو رمثہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: میں نے اسی طرح نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما آپ کی داہنی طرف پہلی صف میں کھڑے تھے۔ ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیرِ اولیٰ میں شامل ہوا تھا۔ نبی ﷺ جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنی داہنی اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ کھڑے ہو گئے، جیسے میں (ابو رمثہ) کھڑا ہوا۔ پھر وہ تکبیرِ اولیٰ میں شامل ہونے والا شخص کھڑا ہو کر دوسری (نفل) نماز پڑھنے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر فرمایا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ فرض نمازوں اور نفل نمازوں میں کچھ وقفہ نہیں کرتے تھے۔
نبی ﷺ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تجھے درست بات کہنے کی توفیق دی۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث ثابت ہو تو امام اور مقتدی کا اس بارے میں ایک ہی حکم ہو گا۔ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اس باب میں یہی حدیث سب سے صحیح ہے۔
نبی ﷺ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تجھے درست بات کہنے کی توفیق دی۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث ثابت ہو تو امام اور مقتدی کا اس بارے میں ایک ہی حکم ہو گا۔ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اس باب میں یہی حدیث سب سے صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 3047
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَطَاءِ بْنِ أَبِي الْخُوَارِ، أَنَّ نَافِعَ بْنَ جُبَيْرٍ، أَرْسَلَهُ إِلَى السَّائِبِ ابْنِ أُخْتِ نَمِرٍ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ رَآهُ مِنْهُ مُعَاوِيَةُ فِي الصَّلَاةِ فَقَالَ: نَعَمْ صَلَّيْتُ مَعَهُ الْجُمُعَةَ فِي الْمَقْصُورَةِ فَلَمَّا سَلَّمَ الْإِمَامُ قُمْتُ فِي مَقَامِي فَصَلَّيْتُ، فَلَمَّا دَخَلَ أَرْسَلَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا تَعُدْ لِمَا فَعَلْتَ إِذَا صَلَّيْتَ الْجُمُعَةَ فَلَا تَصِلْهَا بِصَلَاةٍ حَتَّى تَتَكَلَّمَ أَوْ تَخْرُجَ فَإِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا بِذَلِكَ " أَنْ لَا نُوصِلَ صَلَاةً حَتَّى نَتَكَلَّمَ أَوْ نَخْرُجَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ بِهَذَا اللَّفْظِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عمر بن عطاء بن ابی خوار بیان کرتے ہیں کہ نافع بن جبیر رحمہ اللہ نے انھیں سائب بن اختِ نمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا کہ وہ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھیں جو انھوں نے دورانِ نماز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ میں دیکھی۔ انھوں نے فرمایا: جی ہاں! میں نے ان کے ساتھ مقصورہ کے مقام پر جمعہ کی نماز ادا کی، جب امام نے سلام پھیرا تو میں نے اپنی جگہ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔ جب وہ تشریف لائے تو میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا: یہ جو تم نے کیا ہے دوبارہ مت کرنا۔ جب تم جمعہ کی نماز پڑھو تو اس کے ساتھ اس وقت کوئی نماز نہ ملاؤ حتیٰ کہ تم بات کر لو یا جگہ تبدیل کر لو۔ اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ”ہم فرض نماز کے بعد نفل نماز اس وقت تک نہ پڑھیں جب تک کہ کوئی بات کر لیں یا اس جگہ کو چھوڑ دیں۔“
(ب) عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”فرض نماز کے بعد نفل نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات وغیرہ نہ کر لی جائے یا جگہ بدل لی جائے۔“
(ب) عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی جیسی روایت بیان کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا: ”فرض نماز کے بعد نفل نماز نہ پڑھی جائے جب تک کہ بات وغیرہ نہ کر لی جائے یا جگہ بدل لی جائے۔“
حدیث نمبر: 3048
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو صَالِحِ بْنُ أَبِي طَاهِرٍ، أنبأ جَدِّي يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْقَاضِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمَّا سَلَّمْتُ قُمْتُ وَلَمْ يَذْكُرِ الْإِمَامَ، وَهَذِهِ الرِّوَايَةُ تَجْمَعُ الْجُمُعَةَ وَغَيْرَهَا حَيْثُ قَالَ: لَا تُوصَلُ صَلَاةٌ بِصَلَاةٍ، وَيَجْمَعُ الْإِمَامَ وَالْمَأْمُومَ وَقَدْ ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: فِي رِوَايَةِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ هَذِهِ الرِّوَايَةَ وَقَدْ نَقَلْتُهَا مَعَ أَثَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَوْلِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْإِمْلَاءِ فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ مِنَ الْمَبْسُوطِ.
حافظ ثناء اللہ
ابن جریج ایک دوسری سند سے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں مگر اس کے آخر میں ہے کہ جب میں نے سلام پھیرا تو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے امام کا ذکر نہیں کیا۔
یہ روایت جمعہ وغیرہ کو شامل ہے جس طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”فرض نماز کے ساتھ نفل نماز کو نہ ملایا جائے“ امام اور مقتدی دونوں کو شامل ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مزنی رحمہ اللہ سے منقول روایت میں اس کا ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر سے نقل کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول مبسوط کی کتاب الجمعہ میں موجود ہے۔
یہ روایت جمعہ وغیرہ کو شامل ہے جس طرح آپ ﷺ کا فرمان کہ ”فرض نماز کے ساتھ نفل نماز کو نہ ملایا جائے“ امام اور مقتدی دونوں کو شامل ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے امام مزنی رحمہ اللہ سے منقول روایت میں اس کا ذکر کیا ہے کہ میں نے اس کو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اثر سے نقل کیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول مبسوط کی کتاب الجمعہ میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 3049
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبِ، أنبأ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ الْغَفَّارِ، أنبأ الْأَعْمَشُ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: " إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ إِذَا سَلَّمَ الْإِمَامُ أَنْ لَا يَقُومَ مِنْ مَوْضِعِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ يُصَلِّي تَطَوُّعًا، حَتَّى يَنْحَرِفَ أَوْ يَتَحَوَّلَ أَوْ يَفْصِلَ بِكَلَامٍ " وَرَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: لَا يَصْلُحُ لِلْإِمَامِ، وَفِي رِوَايَةٍ: لَا يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ، وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي ذَلِكَ، وَقَالَ: " فَلْيَتَقَدَّمْ أَوْ لِيُكَلِّمْ أَحَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
(ا) عباد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ جب امام سلام پھیرے تو اپنی جگہ پر نفل پڑھنے کے لیے کھڑا نہ ہو، بلکہ رخ بدل لے اور پھر جائے یا بات وغیرہ کر لے۔
(ب) ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امام کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام کو یہ زیب نہیں دیتا۔
(ج) اور ہمیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے اس بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ امام تھوڑا آگے پیچھے ہو جائے یا کسی سے بات کر لے۔
(ب) ثوری رحمہ اللہ نے بھی یہ روایت بیان کی ہے مگر اس میں یہ ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: امام کے لیے ایسا کرنا درست نہیں ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ امام کو یہ زیب نہیں دیتا۔
(ج) اور ہمیں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے واسطے سے اس بارے میں روایت بیان کی گئی ہے کہ امام تھوڑا آگے پیچھے ہو جائے یا کسی سے بات کر لے۔
حدیث نمبر: 3050
أنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ خُرَّزَاذَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، يَعْنِي الشَّافِعِيَّ، ثنا ⦗٢٧٣⦘ دَاوُدُ، عَنْ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " مَنْ صَلَّى الْفَرِيضَةَ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُصَلِّيَ بَعْدَهَا فَلْيَتَقَدَّمْ أَوْ لِيُكَلِّمْ أَحَدًا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمرو بن دینار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جس نے فرض نماز ادا کی، پھر اس کے بعد نفل نماز پڑھنا چاہا تو وہ تھوڑا آگے پیچھے ہو جائے یا کسی سے بات چیت کر لے۔“
حدیث نمبر: 3051
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ دَفَعَ رَجُلًا عَنْ مَقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ الْمَكْتُوبَةَ، وَقَالَ: " إِنَّمَا دَفَعْتُكَ لِتَقَدَّمَ أَوْ تَأَخَّرَ " وَرُوِيَ عَنْهُ بِمَعْنَاهُ فِي الْجُمُعَةِ.
حافظ ثناء اللہ
عطاء بن ابی رباح بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ایک آدمی کو اس کی جائے نماز سے دھکیلتے دیکھا۔ آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں نے اس کو صرف اس لیے دھکیلا تاکہ وہ آگے پیچھے ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3052
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ كَانَ " إِذَا صَلَّى تَحَوَّلَ مِنْ مَقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ ".
حافظ ثناء اللہ
حفص بن غیاث بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز پڑھتے تو اپنی جائے نماز سے ہٹ جاتے۔
حدیث نمبر: 3053
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَكَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، كَانَ يُصَلِّي سُبْحَتَهُ فِي مَقَامِهِ الَّذِي صَلَّى فِيهِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَكَأَنَّهُ كَانَ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِكَلَامٍ أَوِ انْحِرَافٍ أَوْ فَعَلَ مَا يَجُوزُ فِعْلُهُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) نافع روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنی نفل نماز اسی جگہ ادا کر لیا کرتے جہاں آپ نے فرض نماز ادا کی ہوتی۔
(ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کر لیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کر دیتے جو جائز ہوتا۔
(ب) شاید آپ ان دونوں نمازوں کے درمیان کلام کر لیتے یا رخ وغیرہ پھیر لیتے یا کسی ایسے کام کے ساتھ فاصلہ کر دیتے جو جائز ہوتا۔
حدیث نمبر: 3054
وَكَذَلِكَ مَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ ثَابِتٍ، ثنا فُرَاتُ بْنُ أَحْنَفَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرٍ الْهِلَالِيِّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ " لَا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَطَوَّعَ الرَّجُلُ مَكَانَهُ " أَوْ رَآهُ فَعَلَهُ شَكَّ عَلِيٌّ وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّهُ فَرَّقَ فِي ذَلِكَ بَيْنَ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ فَكَرِهَهُ لِلْإِمَامِ دُونَ الْمَأْمُومِ وَإِسْنَادُهُ غَيْرُ قَوِيٍّ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ وہ اس بات میں کوئی حرج محسوس نہیں کرتے تھے کہ آدمی اسی جگہ نفل نماز پڑھے، اگرچہ وہ کسی کو اس طرح کرتے دیکھ بھی لیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شک ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلے میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ وہ اس مسئلے میں امام اور مقتدی کے درمیان فرق کرتے تھے اور امام کے لیے اس طرح کرنا مکروہ خیال کرتے تھے جبکہ مقتدی کے لیے جواز کے قائل تھے۔ اس کی اسناد قوی نہیں ہیں۔