السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يتحول عن مكانه إذا أراد أن يتطوع في المسجد باب: جب امام مسجد میں نفل پڑھنے کا ارادہ کرے تو اس کا اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نُصَيْرٍ الْخَلَدِيُّ بِبَغْدَادَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَزَّازُ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ شُعْبَةَ، ثنا الْمِنْهَالُ بْنُ خَلِيفَةَ، عَنِ الْأَزْرَقِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: صَلَّى بِنَا إِمَامٌ لَنَا، يُكَنَّى أَبَا رِمْثَةَ فَقَالَ: وَصَلَّيْتُ هَذِهِ الصَّلَاةَ أَوْ مِثْلَ هَذِهِ الصَّلَاةِ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَقُومَانِ فِي الصَّفِّ الْمُقَدَّمِ عَنْ يَمِينِهِ، وَكَانَ رَجُلٌ قَدْ شَهِدَ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ " فَصَلَّى نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى رَأَيْنَا بَيَاضَ خَدَّيْهِ، ثُمَّ انْفَتَلَ كَانْفِتَالِ أَبِي رِمْثَةَ، يَعْنِي نَفْسَهُ فَقَامَ الرَّجُلُ الَّذِي أَدْرَكَ مَعَهُ التَّكْبِيرَةَ الْأُولَى مِنَ الصَّلَاةِ يَشْفَعُ فَوَثَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ فَأَخَذَ بِمَنْكِبَيْهِ فَهَزَّهُ، ثُمَّ قَالَ: اجْلِسْ فَإِنَّهُ لَمْ يَهْلِكْ أَهْلُ الْكِتَابِ إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَكُنْ بَيْنَ صَلَاتِهِمْ فَصْلٌ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَصَرَهُ، فَقَالَ: " أَصَابَ اللهُ بِكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ " وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ نَجْدَةَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَقَدْ قِيلَ مَكَانَ أَبِي رِمْثَةَ أَبُو أُمَيَّةَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا إِنْ ثَبَتَ بِجَمْعِ الْإِمَامِ وَالْمَأْمُومِ وَكَذَلِكَ حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، وَفِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثٌ هُوَ أَصَحُّ مِنْ جَمِيعِ مَا ذَكَرْنَاهُ.(ا) ازرق بن قیس بیان کرتے ہیں کہ ہمارے امام ابو رمثہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی اور فرمایا: میں نے اسی طرح نبی ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما آپ کی داہنی طرف پہلی صف میں کھڑے تھے۔ ایک اور شخص بھی تھا جو تکبیرِ اولیٰ میں شامل ہوا تھا۔ نبی ﷺ جب نماز پڑھ چکے تو آپ نے اپنی داہنی اور بائیں جانب سلام پھیرا یہاں تک کہ ہم نے آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی، پھر آپ کھڑے ہو گئے، جیسے میں (ابو رمثہ) کھڑا ہوا۔ پھر وہ تکبیرِ اولیٰ میں شامل ہونے والا شخص کھڑا ہو کر دوسری (نفل) نماز پڑھنے لگا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ تیزی سے اس کی طرف بڑھے اور اسے کندھوں سے پکڑ کر جھنجھوڑ کر فرمایا: بیٹھ جاؤ، کیونکہ اہل کتاب صرف اسی لیے ہلاک ہوئے کہ وہ فرض نمازوں اور نفل نمازوں میں کچھ وقفہ نہیں کرتے تھے۔
نبی ﷺ نے نظر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا: ”اے خطاب کے بیٹے! اللہ تعالیٰ نے تجھے درست بات کہنے کی توفیق دی۔“
(ب) امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ حدیث ثابت ہو تو امام اور مقتدی کا اس بارے میں ایک ہی حکم ہو گا۔ اسی طرح ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے اور اس باب میں یہی حدیث سب سے صحیح ہے۔