السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يقبل على الناس بوجهه إذا سلم فيحدثهم في العلم وفيما يكون خيرا باب: امام کا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے علم اور بھلائی کی باتیں کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3033
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْحَدِيثَ بَعْدَ الْفَجْرِ، أَوْ قَالَ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُسَبِّحَ وَيُكَبِّرَ ".حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فجر کے بعد باتیں کرنا ناپسند خیال کرتے تھے یا راوی نے یہ کہا کہ فجر کی دو رکعتوں کے بعد باتیں کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے، وہ تکبیر و تسبیح کو مستحب سمجھتے تھے۔