السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يقبل على الناس بوجهه إذا سلم فيحدثهم في العلم وفيما يكون خيرا باب: امام کا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے علم اور بھلائی کی باتیں کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3032
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانُوا " يَسْتَحِبُّونَ لِلرَّجُلِ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَنْ لَا يَطْعَمَ طَعَامًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَيُصَلِّيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَكْعَتَيْنِ " وَرُوِّينَا عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَمَا يَتَكَلَّمُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِنَّمَا أَرَادَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِمْ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ.حافظ ثناء اللہ
(ا) حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کو لوگ مستحب خیال کرتے تھے کہ آدمی جب صبح کی نماز پڑھے تو سورج طلوع ہونے تک کچھ نہ کھائے اور اللہ کے لیے دو رکعت ادا کرے۔
(ب) مالک بن انس رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے بعد باتیں بھی نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔