السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يقبل على الناس بوجهه إذا سلم فيحدثهم في العلم وفيما يكون خيرا باب: امام کا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے علم اور بھلائی کی باتیں کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3034
قَالَ: وَثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: كَانَ يَعِزُّ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ " أَنْ لَا يَذْكُرَ اللهَ وَالْقُرْآنَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْفَجْرَ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمَا كَرِهَا الْكَلَامَ " بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا لَا يَعْنِي مِنَ الْكَلَامِ فَقَدْ ".حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر یہ بات بہت گراں گزرتی تھی کہ وہ اللہ کا ذکر اور قرآن کی تلاوت نہ کریں حتیٰ کہ فجر کی نماز ادا کر لیں۔
(ب) سعید بن جبیر اور ابراہیم بن یزید نخعی رحمہما اللہ کے بارے میں ہمیں بیان کیا گیا کہ وہ دونوں حضرات فجر کی دو رکعتوں کے بعد باتیں کرنا ناپسند سمجھتے تھے اور شاید وہ لایعنی کلام کو ناپسند سمجھتے تھے۔