کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام کا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے علم اور بھلائی کی باتیں کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3028
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنبأ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، ثنا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا صَلَّى صَلَاةَ الصُّبْحِ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَلْ رَأَى أَحَدٌ مِنْكُمْ رُؤْيَا؟ ". . . الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھ کر فارغ ہوتے تو ہماری طرف رخِ انور پھیر لیتے اور فرماتے: ”کیا تم میں سے کسی نے آج کوئی خواب دیکھا ہے؟“۔۔۔
حدیث نمبر: 3029
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْأَدَمِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ يُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ فَقَالَ: " مَنْ رَأَى مِنْكُمْ رُؤْيَا فَلْيَقُصَّهَا أَعْبُرْهَا لَهُ" وَذَكَرَ الْحَدِيثَ، كَذَا قَالَهُ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَرِيرٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب صبح کی نماز پڑھاتے تو نماز کے بعد ہماری طرف مڑ کر فرماتے: ”جس نے آج رات کوئی خواب دیکھا ہے تو بیان کرے، میں اس کی تعبیر بیان کروں گا“۔۔۔
حدیث نمبر: 3030
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ: " صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟ " قَالُوا: اللهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: " قَالَ: أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي ⦗٢٦٨⦘ وَكَافِرٌ، فَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللهِ وَرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي وَكَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ: مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْلَمَةَ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، عَنْ مَالِكٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر ہمیں صبح کی نماز پڑھائی اور رات کو بارش بھی ہوئی تھی، جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو لوگوں کی طرف منہ کیا اور فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو تمہارا رب کیا فرماتا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ”اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی خوب جانتے ہیں۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”آج صبح میرے بعض بندے مومن ہوئے اور بعض کافر۔ جس نے کہا کہ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی تو وہ مجھ پر ایمان لانے والا ہے اور ستاروں کا منکر اور جس نے کہا کہ فلاں ستارے کے فلاں جگہ پر آنے کی وجہ سے بارش ہوئی تو وہ میرا منکر ہے اور ستاروں پر ایمان لانے والا ہے۔“”
حدیث نمبر: 3031
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ أَتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ فَقَالَ: " نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا، وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.
حافظ ثناء اللہ
حمید طویل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی رکھی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشا کی نماز آدھی رات کے قریب تک مؤخر کر دی۔ پھر جب آپ ﷺ نے نماز پڑھائی تو نماز کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز ہی میں رہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گویا میں اب بھی آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔
حدیث نمبر: 3032
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أنبأ أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ الْقَطَّانُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَفَّانُ، ثنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنِ الْحَسَنِ قَالَ: كَانُوا " يَسْتَحِبُّونَ لِلرَّجُلِ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ أَنْ لَا يَطْعَمَ طَعَامًا حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَيُصَلِّيَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ رَكْعَتَيْنِ " وَرُوِّينَا عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ قَالَ: " أَدْرَكْتُ النَّاسَ وَمَا يَتَكَلَّمُونَ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَإِنَّمَا أَرَادَ فِيمَا لَا يَعْنِيهِمْ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الْفَجْرِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ اس بات کو لوگ مستحب خیال کرتے تھے کہ آدمی جب صبح کی نماز پڑھے تو سورج طلوع ہونے تک کچھ نہ کھائے اور اللہ کے لیے دو رکعت ادا کرے۔
(ب) مالک بن انس رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے بعد باتیں بھی نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔
(ب) مالک بن انس رحمہ اللہ کے واسطے سے ہمیں روایت بیان کی گئی کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ صبح کی نماز کے بعد باتیں بھی نہیں کرتے تھے حتیٰ کہ سورج طلوع ہو جائے۔
حدیث نمبر: 3033
فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا هَارُونُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَكْرَهُ الْحَدِيثَ بَعْدَ الْفَجْرِ، أَوْ قَالَ بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ، وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُسَبِّحَ وَيُكَبِّرَ ".
حافظ ثناء اللہ
مجاہد رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فجر کے بعد باتیں کرنا ناپسند خیال کرتے تھے یا راوی نے یہ کہا کہ فجر کی دو رکعتوں کے بعد باتیں کرنے کو مکروہ سمجھتے تھے، وہ تکبیر و تسبیح کو مستحب سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3034
قَالَ: وَثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ قَالَ: كَانَ يَعِزُّ عَلَى عَبْدِ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ " أَنْ لَا يَذْكُرَ اللهَ وَالْقُرْآنَ حَتَّى يُصَلِّيَ الْفَجْرَ " وَرُوِّينَا عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَإِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُمَا كَرِهَا الْكَلَامَ " بَعْدَ رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ وَكَأَنَّهُمْ كَرِهُوا مَا لَا يَعْنِي مِنَ الْكَلَامِ فَقَدْ ".
حافظ ثناء اللہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ پر یہ بات بہت گراں گزرتی تھی کہ وہ اللہ کا ذکر اور قرآن کی تلاوت نہ کریں حتیٰ کہ فجر کی نماز ادا کر لیں۔
(ب) سعید بن جبیر اور ابراہیم بن یزید نخعی رحمہما اللہ کے بارے میں ہمیں بیان کیا گیا کہ وہ دونوں حضرات فجر کی دو رکعتوں کے بعد باتیں کرنا ناپسند سمجھتے تھے اور شاید وہ لایعنی کلام کو ناپسند سمجھتے تھے۔
(ب) سعید بن جبیر اور ابراہیم بن یزید نخعی رحمہما اللہ کے بارے میں ہمیں بیان کیا گیا کہ وہ دونوں حضرات فجر کی دو رکعتوں کے بعد باتیں کرنا ناپسند سمجھتے تھے اور شاید وہ لایعنی کلام کو ناپسند سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 3035
ثَبَتَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ فَإِنْ كُنْتُ مُسْتَيْقِظَةً، حَدَّثَنِي وَإِلَّا اضْطَجَعَ حَتَّى يَقُومَ إِلَى الصَّلَاةِ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، أنبأ الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَبُو النَّضْرِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَذَكَرَهُ، أَخْرَجَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فجر کی دو رکعتیں ادا کرتے، اگر میں جاگ رہی ہوتی تو مجھ سے بات چیت کرتے ورنہ آپ ﷺ بھی لیٹ جاتے حتیٰ کہ آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے۔