السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإمام يقبل على الناس بوجهه إذا سلم فيحدثهم في العلم وفيما يكون خيرا باب: امام کا سلام پھیرنے کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہونا اور ان سے علم اور بھلائی کی باتیں کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 3031
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ عَبْدُوسُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ قَالَ: سُئِلَ أَنَسٌ أَتَّخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمًا؟ فَقَالَ: " نَعَمْ أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ إِلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا وَنَامُوا، وَلَمْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " قَالَ أَنَسٌ: فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيضِ خَاتَمِهِ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ حُمَيْدٍ كَمَا مَضَى ذِكْرُهُ.حافظ ثناء اللہ
حمید طویل رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کسی نے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے انگوٹھی رکھی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا: جی ہاں! ایک رات رسول اللہ ﷺ نے عشا کی نماز آدھی رات کے قریب تک مؤخر کر دی۔ پھر جب آپ ﷺ نے نماز پڑھائی تو نماز کے بعد ہماری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”لوگ تو نماز پڑھ کر سو چکے ہیں، لیکن تم جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے، نماز ہی میں رہے۔“ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گویا میں اب بھی آپ ﷺ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔