السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار للإمام والمأموم في أن يخفيا الذكر باب: امام اور مقتدی کے لیے ذکر کو آہستہ کرنے کے اختیار کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ⦗٢٦٢⦘ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا أَوْ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ: اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمًّا، وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ " قَالَ وَأَنَا خَلْفُ رَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ " فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ عَاصِمٍ.سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو لوگ ٹیلوں پر چڑھ کر اونچی اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنی تسبیحات و تکبیرات کو آہستہ پڑھو، تم کسی بہرے یا گونگے کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ میں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے کوئی ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں سے ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور بتائیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جنت کے خزانوں میں سے ہے۔“