السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: جهر الإمام بالذكر إذا أحب أن يتعلم منه باب: جب امام یہ چاہے کہ لوگ اس سے سیکھیں تو اس کا بلند آواز سے ذکر کرنے کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ: " وَأَحْسِبُ مَا رَوَى ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ تَهْلِيلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ مِنْ تَكْبِيرِهِ كَمَا رُوِّينَا، وَأَحْسِبُهُ إِنَّمَا جَهَرَ قَلِيلًا؛ لِيَتَعَلَّمَ النَّاسُ مِنْهُ ".امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور میرا گمان یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم ﷺ کے «تَهْلِيل» (یعنی لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پڑھنے) کی جو روایت بیان کی ہے اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ ﷺ کے «تَكْبِير» (یعنی اللَّهُ أَكْبَرُ پڑھنے) کی جو روایت بیان کی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے ہم تک یہ روایات پہنچی ہیں، تو میں سمجھتا ہوں کہ آپ ﷺ نے یقیناً ان کلمات کو قدرے بلند آواز سے صرف اس لیے پڑھا تھا تاکہ لوگ آپ ﷺ سے (یہ ذکر کرنا) سیکھ لیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي وَغَيْرُهُمَا، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: " كُنْتُ أَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالتَّكْبِيرِ " قَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: ثُمَّ ذَكَرْتُهُ لِأَبِي مَعْبَدٍ بَعْدُ، فَقَالَ: لَمْ أُحَدِّثْكُمْ بِهِ قَالَ عَمْرٌو: وَقَدْ حَدَّثَنِيهِ وَكَانَ مِنْ أَصْدَقِ مَوَالِي ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ الشَّافِعِيُّ " كَأَنَّهُ نَسِيَهُ بَعْدَمَا حَدَّثَهُ إِيَّاهُ ".سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی نماز کے ختم ہونے کو تکبیر سے پہچانتا تھا۔ عمرو بن دینار رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث ابو معبد کے سامنے ذکر کی تو انہوں نے فرمایا: میں نے تمہیں یہ حدیث بیان نہیں کی۔ عمرو کہتے ہیں: انہوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلاموں میں سب سے سچے تھے۔
(ب) امام شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: وہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد بھول گئے ہوں گے۔