السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار للإمام والمأموم في أن يخفيا الذكر باب: امام اور مقتدی کے لیے ذکر کو آہستہ کرنے کے اختیار کا بیان
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: " نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ " قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] " عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ " {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] " أَسْمِعْهُمْ، وَلَا تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْجَمِيعُ مُرَادًا بِالْآيَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آیت ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] اس وقت اتری جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں روپوش تھے اور جب آپ ﷺ نماز میں اپنی آواز اونچی کرتے تو مشرکین سن لیتے اور قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لے کر آنے والے سب کو برا بھلا کہتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی آواز کو اپنی نماز میں زیادہ اونچا نہ کرو، حتیٰ کہ مشرکین سن لیں“ ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کو اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں“ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”بلکہ آپ معتدل راستہ اختیار کریں۔ آپ ان کو سنائیں اور آواز اتنی اونچی نہ کریں تاکہ وہ آپ سے قرآن لے لیں۔“
(ب) یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام امور اس آیت سے مراد ہوں۔