کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: امام اور مقتدی کے لیے ذکر کو آہستہ کرنے کے اختیار کا بیان
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " فَإِنَّ اللهَ عَزَّ ذِكْرُهُ يَقُولُ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] يَعْنِي الدُّعَاءَ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَلَا تَجْهَرْ: تَرْفَعْ، وَلَا تُخَافِتْ: حَتَّى لَا تُسْمِعْ نَفْسَكَ ".
حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”بے شک اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ ”اور آپ اپنی نماز میں نہ بہت بلند آواز سے پڑھیں اور نہ بالکل آہستہ۔“ [سورة الإسراء: 110]
اس (نماز) سے مراد دعا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور «وَلَا تَجْهَرْ» کا معنی یہ ہے کہ آپ آواز بہت بلند نہ کریں، اور «وَلَا تُخَافِتْ» کا معنی یہ ہے کہ اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ آپ خود بھی نہ سن سکیں۔“
اس (نماز) سے مراد دعا ہے، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
اور «وَلَا تَجْهَرْ» کا معنی یہ ہے کہ آپ آواز بہت بلند نہ کریں، اور «وَلَا تُخَافِتْ» کا معنی یہ ہے کہ اتنی آہستہ بھی نہ ہو کہ آپ خود بھی نہ سن سکیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي قَوْلِهِ: " {لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَتْ: " هُوَ الدُّعَاءُ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی نماز نہ تو بہت آواز سے پڑھ اور نہ بالکل پوشیدہ“ کے بارے میں منقول ہے کہ اس سے مراد دعا ہے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحِيرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عُبَيْدٌ الْهَبَّارِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: " نَزَلَتْ يَعْنِي هَذِهِ الْآيَةَ {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] " فِي الدُّعَاءِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ وَكَذَلِكَ قَالَ مُجَاهِدٌ فِي الدُّعَاءِ وَالْمَسْأَلَةِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ آیت ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] دعا کے بارے میں نازل ہوئی۔
(ب) اسی طرح مجاہد کا قول ہے کہ یہ دعا مانگنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
(ب) اسی طرح مجاہد کا قول ہے کہ یہ دعا مانگنے کے بارے میں نازل ہوئی۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا دَعَا فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ صَوْتَهُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَلَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اپنی نماز کو نہ بہت اونچی آواز سے پڑھ اور نہ ہی بالکل آہستہ آواز سے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جب نماز میں دعا کرتا تھا تو اپنی آواز بلند کرتا تھا۔
اس روایت میں اسی طرح ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
اس روایت میں اسی طرح ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: " نَزَلَتْ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَوَارٍ بِمَكَّةَ، وَكَانَ إِذَا رَفَعَ صَوْتَهُ سَمِعَ الْمُشْرِكُونَ ذَلِكَ فَيَسُبُّوا الْقُرْآنَ وَمَنْ أَنْزَلَهُ وَمَنْ جَاءَ بِهِ " قَالَ اللهُ تَعَالَى {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ} [الإسراء: ١١٠] حَتَّى يَسْمَعَ الْمُشْرِكُونَ {وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] " عَنْ أَصْحَابِكَ فَلَا تُسْمِعُهُمْ " {وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا} [الإسراء: ١١٠] " أَسْمِعْهُمْ، وَلَا تَجْهَرْ حَتَّى يَأْخُذُوا عَنْكَ الْقُرْآنَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ وَغَيْرِهِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ وَغَيْرِهِ، عَنْ هُشَيْمٍ وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ الْجَمِيعُ مُرَادًا بِالْآيَةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ آیت ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] اس وقت اتری جب رسول اللہ ﷺ مکہ میں روپوش تھے اور جب آپ ﷺ نماز میں اپنی آواز اونچی کرتے تو مشرکین سن لیتے اور قرآن کو، اس کے نازل کرنے والے اور اسے لے کر آنے والے سب کو برا بھلا کہتے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اپنی آواز کو اپنی نماز میں زیادہ اونچا نہ کرو، حتیٰ کہ مشرکین سن لیں“ ﴿وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”اور اس کو اتنا آہستہ بھی نہ پڑھو کہ اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں“ ﴿وَابْتَغِ بَيْنَ ذَلِكَ سَبِيلًا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”بلکہ آپ معتدل راستہ اختیار کریں۔ آپ ان کو سنائیں اور آواز اتنی اونچی نہ کریں تاکہ وہ آپ سے قرآن لے لیں۔“
(ب) یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام امور اس آیت سے مراد ہوں۔
(ب) یہ احتمال بھی ہو سکتا ہے کہ یہ تمام امور اس آیت سے مراد ہوں۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، ثنا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، ⦗٢٦٢⦘ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ قَالَ: لَمَّا غَزَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُنَيْنًا أَوْ قَالَ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ أَشْرَفَ النَّاسُ عَلَى وَادٍ فَرَفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالتَّكْبِيرِ: اللهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ارْبَعُوا عَلَى أَنْفُسِكُمْ إِنَّكُمْ لَا تَدْعُونَ أَصَمًّا، وَلَا غَائِبًا إِنَّمَا تَدْعُونَ سَمِيعًا قَرِيبًا وَهُوَ مَعَكُمْ " قَالَ وَأَنَا خَلْفُ رَايَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَنِي وَأَنَا أَقُولُ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " فَقَالَ: " يَا عَبْدَ اللهِ بْنَ قَيْسٍ " فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللهِ فَقَالَ: " أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَلِمَةٍ مِنْ كَنْزِ الْجَنَّةِ " قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي قَالَ: " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ، عَنْ عَاصِمٍ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوہ حنین کے لیے روانہ ہوئے تو لوگ ٹیلوں پر چڑھ کر اونچی اونچی آواز سے تکبیر کہنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! اپنی تسبیحات و تکبیرات کو آہستہ پڑھو، تم کسی بہرے یا غائب کو نہیں پکار رہے بلکہ تم ایک سننے والے اور قریب کو پکار رہے ہو اور وہ تمہارے ساتھ ہے۔“ راوی فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پیچھے تھا اور کہہ رہا تھا: «لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے عبداللہ بن قیس!“ میں نے کہا: جی ہاں! اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تجھے کوئی ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں سے ہے؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں ضرور بتائیں! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”«لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ» جنت کے خزانوں میں سے ہے۔“