السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الاختيار للإمام والمأموم في أن يخفيا الذكر باب: امام اور مقتدی کے لیے ذکر کو آہستہ کرنے کے اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 3010
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي قَوْلِهِ: {وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا} [الإسراء: ١١٠] قَالَ: " كَانَ الرَّجُلُ إِذَا دَعَا فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ صَوْتَهُ " كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ وَلَيْسَتْ بِقَوِيَّةٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَلَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا﴾ [سورة الإسراء: 110] ”کہ اپنی نماز کو نہ بہت اونچی آواز سے پڑھ اور نہ ہی بالکل آہستہ آواز سے۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ایک آدمی جب نماز میں دعا کرتا تھا تو اپنی آواز بلند کرتا تھا۔
اس روایت میں اسی طرح ہے اور یہ قوی نہیں ہے۔