السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2906
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى يَوْمًا الظُّهْرَ، فَجَاءَ رَجُلٌ فَقَرَأَ خَلْفَهُ {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} [الأعلى: ١] فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟ " قَالَ: أَنَا قَالَ: " قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ بِهَذَا الْمَعْنَى مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ وَسَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک دن ظہر کی نماز پڑھائی تو ایک شخص آپ کے پیچھے (جماعت میں) کھڑا ہو گیا، اس نے ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ [سورة الأعلى: 1] پڑھی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے پوچھا: ”پڑھنے والا کون تھا؟“ اس شخص نے عرض کیا: میں تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے جان لیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے مجھ سے چھین رہا ہے۔“