السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الصَّفَّارُ، وَابْنُ صَاعِدٍ، قَالَا ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " مَنْ ذَا الَّذِي يُخَالِجُنِي سُورَتِي؟ " فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ. قَالَ ابْنُ صَاعِدٍ: قَوْلَهُ: " فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ " تَفَرَّدَ بِرِوَايَتِهِ حَجَّاجٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَنْ قَتَادَةَ، شُعْبَةُ، وَابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَمَعْمَرٌ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُسْلِمٍ وَحَجَّاجٌ، وَأَيُّوبُ بْنُ أَبِي مِسْكِينٍ، وَهَمَّامٌ، وَأَبَانُ وَسَعِيدُ بْنُ بِشْرٍ، فَلَمْ يَقُلْ أَحَدٌ مِنْهُمْ مَا تَفَرَّدَ بِهِ حَجَّاجٌ، قَالَ شُعْبَةُ: سَأَلْتُ قَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ قَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ.سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک شخص آپ کے پیچھے (اونچی آواز میں) پڑھ رہا تھا۔ جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کون ہے جو مجھ سے میری سورت (جو میں پڑھ رہا تھا) چھین رہا تھا؟“ پھر آپ ﷺ نے امام کے پیچھے قراءت کرنے سے منع فرما دیا۔ حجاج اس روایت میں متفرد ہیں۔
ابن صاعد کہتے ہیں کہ ان کے قول «فَنَهَى عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ...» ”پس امام کے پیچھے قراءت سے منع فرما دیا...“ کو روایت کرنے میں حجاج اکیلا ہے۔
شعبہ کہتے ہیں: میں نے قتادہ رحمہ اللہ سے پوچھا کہ کیا آپ ﷺ نے اس کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟ انہوں نے کہا: اگر اسے ناپسند سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔