السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2907
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْوَلِيدِ وَفِي آخِرِهِ قَالَ: شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ كَأَنَّهُ كَرِهَهُ، فَقَالَ: لَوْ كَرِهَهُ لَنَهَى عَنْهُ وَرُوِّينَا عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تَجُوزُ صَلَاةٌ إِلَّا بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَرِهَ مِنَ الْقَارِئِ خَلْفَهُ شَيْئًا كَرِهَ الْجَهْرَ بِالْقِرَاءَةِ دُونَ الْقِرَاءَةِ نَفْسِهَا وَهُوَ مِثْلُ مَا ".حافظ ثناء اللہ
(ا) شعبہ کہتے ہیں: ”میں نے قتادہ سے کہا: شاید کہ آپ نے امام کے پیچھے قراءت کو اچھا نہیں سمجھا ہوگا؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”اگر اس کو اچھا نہ سمجھتے تو ضرور منع فرما دیتے۔“
(ب) عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے ہمیں روایت بیان کی گئی ہے کہ انھوں نے فرمایا: ”سورہ فاتحہ کے بغیر نماز جائز نہیں ہے اور نبی ﷺ نے اپنے پیچھے پڑھنے والے کو اچھا نہیں سمجھا تو اس کے اونچا پڑھنے کو ناپسند کیا ہے نہ کہ دل میں پڑھنے کو (یعنی اس کے پڑھنے کو آپ نے اس لیے اچھا نہیں سمجھا کہ وہ اونچی آواز سے پڑھ رہا تھا جس کی وجہ سے آپ کی قراءت میں خلل واقع ہو رہا تھا)۔“