السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يقرأ خلف الإمام على الإطلاق باب: اس قول کا بیان کہ امام کے پیچھے مطلقا قراءت نہ کی جائے
حدیث نمبر: 2904
وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنبأ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ: سَأَلْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الْإِمَامِ فَقَالَ: " إِنْ قَرَأْتَ فَقَدْ قَرَأَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ، وَالْأَخْذُ بِأَمْرِهِمْ، وَإِنْ تَرَكْتَ فَقَدْ تَرَكَ قَوْمٌ كَانَ فِيهِمْ أُسْوَةٌ " قَالَ: " وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ لَا يَقْرَأُ ".حافظ ثناء اللہ
اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے قراءت خلف الإمام کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: اگر آپ قراءت کریں تو عظیم لوگوں نے بھی قراءت کی ہے جن کی زندگیاں نمونہ ہیں اور ان کی سیرت پر عمل کیا جاتا ہے اور اگر آپ قراءت نہ کریں تب بھی ایسے کئی لوگوں نے قراءت نہیں کی جن کی زندگیاں ہمارے لیے نمونہ ہیں۔
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما قراءت نہیں کرتے تھے۔