السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن آل النبي صلى الله عليه وسلم هم أهل دينه عامة باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آل سے مراد عام طور پر آپ کے دین کے پیروکار ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنُ مَزْيَدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: سَمِعْتُ الْأَوْزَاعِيَّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ رَجُلٌ مِنَّا قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيُّ قَالَ: جِئْتُ أُرِيدُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَقَالَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، انْطَلَقَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُوهُ، فَاجْلِسْ، قَالَ: فَجَاءَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَخَلَا، فَدَخَلْتُ مَعَهُمَا قَالَ: فَدَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَأَجْلَسَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا عَلَى فَخِذِهِ وَأَدْنَى فَاطِمَةَ مِنْ حِجْرِهِ وَزَوْجَهَا، ثُمَّ لَفَّ عَلَيْهِمْ ثَوْبَهُ وَأَنَا مُنْتَبِذٌ فَقَالَ: {إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا} [الأحزاب: ٣٣] " اللهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي، اللهُمَّ أَهْلِي أَحَقُّ " قَالَ وَاثِلَةُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَأَنَا مِنْ أَهْلِكَ قَالَ: " وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِي " قَالَ وَاثِلَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّهَا لِمَنْ أَرْجَى مَا أَرْجُو ".سیدنا واثلہ بن اسقع لیثی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتا تھا، لیکن وہ نہ ملے تو سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے ہیں، آپ ﷺ نے انھیں بلایا تھا۔ آپ یہاں تشریف رکھیے، اچانک سیدنا علی رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے اور اندر چلے گئے، میں بھی ان کے ہمراہ اندر چلا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلایا اور ان دونوں کو اپنی گود میں بٹھایا اور فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ان کے خاوند کو اپنے قریب بٹھایا۔ پھر ان پر اپنی چادر ڈالی۔ میں ایک طرف تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ [سورة الأحزاب: 33] ”اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اے اہل بیت تم سے نجاست کو لے جائے اور تمہیں بالکل پاک کر دے۔ اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں، اے اللہ! اہل والے زیادہ حق دار ہیں۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا میں بھی آپ کے اہل میں ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں تم بھی میرے اہل میں شامل ہو۔“ واثلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: آپ ﷺ نے میری امیدوں سے بھی بڑھ کر بات فرمائی۔