السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن آل النبي صلى الله عليه وسلم هم أهل دينه عامة باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آل سے مراد عام طور پر آپ کے دین کے پیروکار ہیں
حدیث نمبر: 2871
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ السُّوسِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَسَعِيدُ بْنُ عُثْمَانَ قَالَا: ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَمَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنِي وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَلَمْ أَجِدْهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ وَهُوَ إِلَى تَخْصِيصِ وَاثِلَةَ بِذَلِكَ أَقْرَبُ مِنْ تَعْمِيمِ الْأُمَّةِ بِهِ، وَكَأَنَّهُ جَعَلَ وَاثِلَةَ فِي حُكْمِ الْأَهْلِ تَشْبِيهًا بِمَنْ يَسْتَحِقُّ هَذَا الِاسْمَ لَا تَحْقِيقًا، وَاللهُ أَعْلَمُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے یہی حدیث ایک دوسری سند سے منقول ہے اور اس کی سند بھی صحیح ہے۔
(ب) مذکورہ حدیث میں واثلہ رضی اللہ عنہ کا آل میں سے ہونا ان کی خصوصیت ہے۔ تمام امت کے لیے اس کا ثبوت امرِ بعید ہے اور واثلہ رضی اللہ عنہ کو آل کہنا بھی مشابہت کی بنا پر ہے نہ کہ حقیقتاً۔