السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن آل النبي صلى الله عليه وسلم هم أهل دينه عامة باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کی آل سے مراد عام طور پر آپ کے دین کے پیروکار ہیں
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا قَالَ ⦗٢١٧⦘ لِلثَّوْرِيِّ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: " قَدِ اخْتَلَفَ النَّاسُ فَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: " أَهْلُ الْبَيْتِ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَقُولُ: مَنْ أَطَاعَهُ وَعَمِلَ بِسُنَنِهِ " قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَحْسِبُهُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ قَالَ: مَنْ أَطَاعَهُ قَالَ الشَّيْخُ: مَنْ ذَهَبَ هَذَا الْمَذْهَبَ الثَّانِي أَشْبَهُ أَنْ يَقُولَ: قَالَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنُوحٍ عَلَيْهِ السَّلَامُ {احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلٍّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ} [هود: ٤٠] وَقَالَ {إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعَدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ} [هود: ٤٦] فَأَخْرَجَهُ بِالشِّرْكِ عَنْ أَنْ يَكُونَ مِنْ أَهْلِ نُوحٍ وَقَدْ أَجَابَ عَنْهُ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى، فَقَالَ: الَّذِي نَذْهَبُ إِلَيْهِ فِي مَعْنَى هَذِهِ الْآيَةِ أَنَّ قَوْلَ اللهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى {إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ} [هود: ٤٦] يَعْنِي الَّذِينَ أَمَرْنَا بِحَمْلِهِمْ مَعَكَ؛ لِأَنَّهُ قَالَ {وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ} [المؤمنون: ٢٧] فَأَعْلَمَهُمْ أَنَّهُ أَمَرَهُ بِأَنْ يَحْمِلَ مِنْ أَهْلِهِ مَنْ لَمْ يَسْبِقْ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْ أَهْلِ مَعْصِيَةٍ، ثُمَّ بَيَّنَ لَهُ، فَقَالَ: إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ.عبدالرزاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک آدمی سے سنا، اس نے ثوری رحمہ اللہ سے پوچھا: آلِ محمد کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اہل بیت مراد ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ جس نے بھی آپ ﷺ کی اطاعت کی اور آپ کی سنت پر عمل کیا۔
ابوبکر کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ عبدالرزاق رحمہ اللہ نے کہا ہے: «مَنْ أَطَاعَهُ» ”جس نے آپ کی اطاعت کی“
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: دوسرا مذہب زیادہ درست ہے؛ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے سیدنا نوح علیہ السلام سے کہا: ﴿احْمِلْ فِيهَا مِنْ كُلِّ زَوْجَيْنِ اثْنَيْنِ وَأَهْلَكَ﴾ [سورة هود: 40] ”اس کشتی میں ہر چیز کے جوڑے جوڑے سوار کرو اور اپنے اہل خانہ کو بھی“ اور فرمایا: ﴿رَبِّ إِنَّ ابْنِي مِنْ أَهْلِي وَإِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَأَنْتَ أَحْكَمُ الْحَاكِمِينَ * قَالَ يَا نُوحُ إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ﴾ [سورة هود: 45-46] ”اے اللہ! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا اور تیرا وعدہ بھی سچا ہے اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے، اللہ نے فرمایا: اے نوح! یہ آپ کے اہل میں سے نہیں، کیونکہ اس کے عمل اچھے نہیں۔“ اللہ نے سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کو شرک کی وجہ سے نوح علیہ السلام کے اہل سے نکال دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے فرمان ﴿إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ﴾ [سورة هود: 46] کا وہ معنیٰ نہیں جو بیان کیا گیا ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کا اہل نہیں کہ کشتی میں سوار ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَأَهْلَكَ إِلَّا مَنْ سَبَقَ عَلَيْهِ الْقَوْلُ مِنْهُمْ﴾ [سورة هود: 40]
”اور اپنے اہل کو کشتی میں سوار کر لو مگر جن کے بارے میں ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا۔“ اس آیت سے بھی سیدنا نوح علیہ السلام کے بیٹے کا آپ کے اہل میں ہونا واضح ہے اور کشتی میں سوار نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس کے اعمال درست نہ تھے۔