السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من زعم أن موالي النبي صلى الله عليه وسلم يدخلون في هذه الجملة باب: اس قول کا بیان جس کا یہ گمان ہے کہ نبی کریم ﷺ کے آزاد کردہ غلام بھی اس جماعت (آل) میں داخل ہیں
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ، فَقَالَ: لِأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا قَالَ: حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: " مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ، وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ " فَلَمَّا جَعَلَهُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ كَآلِهِ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي الْمُطَّلِبِ فِي تَحْرِيمِ الصَّدَقَةِ، فَكَذَلِكَ هُمْ فِي الصَّلَاةِ عَلَيْهِمْ وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ ".(ا) ابورافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے بنو مخزوم میں سے ایک شخص کو صدقہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، تو اس نے ابورافع رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں، آپ کو بھی اس میں سے کچھ مل جائے گا۔ ابورافع رضی اللہ عنہ کہنے لگے: نبی ﷺ سے دریافت کریں گے۔ چنانچہ ابورافع رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے پاس آئے اور دریافت کیا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کسی قوم کا آزاد کردہ غلام اسی قوم میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ لینا جائز (حلال) نہیں۔“
(ب) جب آپ ﷺ نے اس حدیث میں ان (غلاموں) کو آل کی طرح شمار کیا، جب وہ صدقے کی حرمت میں بنو ہاشم اور بنو عبد المطلب میں شامل ہیں، اسی طرح صلوٰۃ میں بھی شامل ہوں گے۔ واللہ اعلم۔