حدیث نمبر: 2538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ: " صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ " قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ.
حافظ ثناء اللہ

وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی، کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے لیکن رفع یدین نہیں کر رہے تھے، جبکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ رحمہ اللہ جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے عبداللہ رحمہ اللہ سے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے۔“ تو عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اے ابوحنیفہ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے؟“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رحمہ اللہ کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2538
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدا
تخریج حدیث «ضعيف جدا»