کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 2528
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ " قَالَ سُفْيَانُ: ثُمَّ قَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَلَقِيتُ يَزِيدَ فَسَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهَذَا، وَزَادَ فِيهِ: ثُمَّ ⦗١١١⦘ لَا يَعُودُ فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ قَالَ سُفْيَانُ: هَكَذَا سَمِعْتُ يَزِيدَ يُحَدِّثُهُ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ بَعْدُ يُحَدِّثُهُ هَكَذَا وَيَزِيدُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَذَهَبَ سُفْيَانُ إِلَى أَنْ يُغَلِّطَ يَزِيدَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ يَقُولُ: كَأَنَّهُ لُقِّنَ هَذَا الْحَرْفَ فَتَلَقَّنَهُ وَلَمْ يَكُنْ يَذْكُرُ سُفْيَانُ يَزِيدَ بِالْحِفْظِ كَذَلِكَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْإِسْفِرَايِينِيُّ، أنبأ أَبُو بَحْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَرْبَهَارِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، بِمَكَّةَ فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ لَيْسَ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ وَقَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُ بِهِ فَيَقُولُ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، وَقَالَ لِي أَصْحَابُنَا: إِنَّ حِفْظَهُ قَدْ تَغَيَّرَ، أَوْ قَالُوا: قَدْ سَاءَ قَالَ الْحُمَيْدِيُّ: قُلْنَا لِقَائِلٍ: هَذَا يَعْنِي لِلْمُحْتَجِّ بِهَذَا، إِنَّمَا رَوَاهُ يَزِيدُ، وَيَزِيدُ يَزِيدُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا جب آپ نماز شروع کرتے تو رفع یدین کرتے۔“ سفیان کہتے ہیں: پھر میں کوفہ آیا تو (اپنے استاد) یزید سے ملا، میں نے انہیں یہی حدیث بیان کرتے ہوئے سنا اور انہوں نے اس میں یہ اضافہ بھی کیا کہ پھر دوبارہ یہ کام (رفع یدین) ساری نماز میں نہیں کیا۔ میں سمجھا کہ انہوں نے اس کی تلقین کی ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میں نے یزید کو یہ حدیث پہلے اس طرح بیان کرتے سنا، پھر دوبارہ انہوں نے اس میں «ثُمَّ يَعُوْدُ» کے الفاظ کا اضافہ کیا۔
(ب) امام شافعی اور سفیان رحمہما اللہ اس طرف گئے ہیں کہ یزید کو اس حدیث میں غلطی پر سمجھیں؛ کیونکہ انہیں اس حرف کی تلقین کی گئی تھی یعنی سمجھایا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے سیکھ کر ذہن نشین کر لیا۔
(ج) اسی طرح ایک اور سند سے بھی یہ حدیث منقول ہے، اس میں «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کے الفاظ نہیں ملتے۔
(د) سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے انہیں یہ حدیث بیان کرتے سنا تو اس میں وہ «ثُمَّ لَا يَعُوْدُ» کہہ رہے تھے، میں نے جان لیا کہ انہوں نے ان کو سکھا دیا ہے۔
(ہ) اور مجھے میرے ساتھیوں (ہم مسلک لوگوں) نے کہا کہ یزید کا حافظہ خراب ہو گیا تھا یا انہوں نے ”قَدْ سَاءَ“ کا لفظ بولا۔
(و) حمیدی کہتے ہیں: جو اس حدیث سے دلیل پکڑتا ہے ہم اس کو اتنا ہی کہیں گے کہ اس روایت کو یزید نے روایت کیا ہے اور یزید اضافہ کرتا رہتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2528
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الا قوله ’’ثم لم يعد‘‘ (لايعود) اخرجه الشافعي في مسنده 853»
حدیث نمبر: 2529
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ قَالَ: سَأَلْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ، فَقَالَ: لَا يَصِحُّ عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثُ قَالَ: وَسَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُضَعِّفُ يَزِيدَ بْنَ أَبِي زِيَادٍ قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ: وَمِمَّا يُحَقِّقُ قَوْلَ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ أَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ وَزُهَيْرَ بْنَ مُعَاوِيَةَ وَهُشَيْمًا وَغَيْرَهُمْ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَجِيئُوا بِهَا إِنَّمَا جَاءَ بِهَا مَنْ سَمِعَ مِنْهُ بِآخِرَةٍ قَالَ الشَّيْخُ: وَالَّذِي يُؤَكِّدُ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ هَؤُلَاءِ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ حدیث صحیح نہیں ہے۔“
(ب) نیز فرمایا کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو سنا، وہ یزید بن ابی زیاد کو ضعیف قرار دیتے ہیں۔
(ب) ابوسعید دارمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کے قول «إِنَّهُمْ لَقَّنُوهُ هَذِهِ الْكَلِمَةَ» ”انہوں نے اسے یہ کلمہ سکھایا ہے“ کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ سفیان ثوری، زہیر بن معاویہ، ہشیم اور ان کے علاوہ دیگر اہل علم نے اس قول کو نہیں کیا۔ یہ قول صرف اسی نے کیا ہے جس نے ان کے بعد سنا۔
(ج) شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اہل علم کا موقف بھی اس کی تائید کرتا ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2529
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ وقد تقدم نقله في التخريج السابق»
حدیث نمبر: 2530
مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُسْلِمٍ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ بِمَكَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " قَالَ سُفْيَانُ: فَلَمَّا قَدِمْتُ الْكُوفَةَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: " يَرْفَعُ يَدَيْهِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ، ثُمَّ لَا يَعُودُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُمْ لَقَّنُوهُ، ⦗١١٢⦘ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ الدَّيْرَعَاقُولِيُّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَشَّارٍ قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ أَخِيهِ عِيسَى، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ فِيهِ: ثُمَّ لَا يَعُودُ وَقِيلَ: عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى وَقِيلَ: عَنْهُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى لَا يُحْتَجُّ بِحَدِيثِهِ وَهُوَ أَسْوَأُ حَالًا عِنْدَ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ بِالْحَدِيثِ مِنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، فَذَكَرَ فَصْلًا فِي تَضْعِيفِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، ثُمَّ قَالَ: وَلَمْ يَرْوِ هَذَا عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى أَحَدٌ أَقْوَى مِنْ يَزِيدَ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا، جب آپ ﷺ نماز شروع فرماتے تو رفع یدین کرتے اور جب رکوع کا ارادہ کرتے تب بھی اور جب رکوع سے سر اٹھاتے بھی رفع یدین کرتے۔
سفیان کہتے ہیں: جب میں کوفہ آیا تو میں نے (یزید سے) یہی حدیث سنی تو انہوں نے فرمایا: جب نماز شروع کرتے تو دونوں ہاتھ اٹھاتے تھے (رفع یدین کرتے تھے)۔ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے تو میں سمجھ گیا کہ اہل کوفہ نے ان کو سمجھایا ہے۔
(ب) شیخ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے اپنے بھائی عیسیٰ سے، انہوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور وہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ اس میں بھی یہی ہے کہ پھر دوبارہ نہیں کرتے تھے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2530
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ الاقوله ثم لم يعد وقد تقدم الكلام عليه قريبا»
حدیث نمبر: 2531
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَحْمَسِيُّ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمٍ يَعْنِي ابْنَ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ: لَأُصَلِّيَنَّ بِكُمْ صَلَاةَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " فَصَلَّى فَلَمْ يَرْفَعْ يَدَيْهِ إِلَّا مَرَّةً وَاحِدَةً ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا علقمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں ضرور تمہیں رسول اللہ ﷺ کی طرح نماز پڑھاؤں گا۔ پھر انہوں نے نماز پڑھائی تو اس میں صرف ایک مرتبہ (شروع میں) رفع یدین کیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2531
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الترمذي 257»
حدیث نمبر: 2532
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ " عَلَّمَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَكَعَ طَبَّقَ يَدَيْهِ بَيْنَ رُكْبَتَيْهِ " قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ سَعْدًا، فَقَالَ: صَدَقَ أَخِي، قَدْ كُنَّا نَفْعَلُ هَذَا، ثُمَّ أُمِرْنَا بِهَذَا، يَعْنِي الْإِمْسَاكَ عَلَى الرُّكْبَتَيْنِ ⦗١١٣⦘ قَالَ الشَّيْخُ فَإِنْ كَانَ الْحَدِيثُ عَلَى مَا رَوَاهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِدْرِيسَ فَقَدْ يَكُونُ عَادَ لِفَرْعِهِمَا فَلَمْ يَحْكِهِ، وَإِنْ كَانَ عَلَى مَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ فَفِي حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّ ذَلِكَ كَانَ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ كَمَا كَانَ التَّطْبِيقُ فِي صَدْرِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ سُنَّتْ بَعْدَهُ السُّنَنُ وَشُرِّعَتْ بِهَذِهِ الشَّرَائِعُ حَفِظَهَا مَنْ حَفِظَهَا وَأَدَّاهَا فَوَجَبَ الْمَصِيرُ إِلَيْهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حافظ ثناء اللہ
علقمہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبداللہ (بن مسعود رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز سکھائی۔ آپ نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا۔ پھر جب رکوع کیا تو اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر اپنے گھٹنوں کے درمیان میں لٹکا دیا۔“ علقمہ کہتے ہیں: جب یہ بات سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”میرے بھائی نے سچ کہا، پہلے ہم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں ہاتھ گھٹنوں کے اوپر رکھنے کا حکم دیا گیا (یعنی ان کو اوپر سے مضبوطی سے پکڑنے کا)۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ اگر حدیث اس طرح ہو جس طرح عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ نے روایت کی ہے تو اس میں رفع یدین دوبارہ کرنے کو بیان نہیں کیا گیا اور اگر اس طرح ہو جیسے ثوری رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے تو ابن ادریس رحمہ اللہ کی حدیث سے معلوم ہے کہ یہ کام اسلام کے ابتدائی دور میں تھا جیسا کہ ہاتھ گھٹنوں کے درمیان لٹکانا اسلام کے ابتدائی دور میں تھا۔ پھر اس کے بعد طریقے بدلتے رہے اور شریعت ارتقا کی منازل طے کرتی رہی (یعنی بتدریج احکام میں تبدیلی آتی رہی)۔ جس نے ان کو یاد کرنا تھا یاد کر لیا اور ان کو آگے پہنچایا، اب ان پر عمل کرنا ضروری ہو گیا۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2532
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه ابن خزيمه 595»
حدیث نمبر: 2533
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْجَرَّاحِيُّ بِمَرْوَ ثنا يَحْيَى بْنُ شَاسَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ السُّكَّرِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ زَمْعَةَ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الْمُبَارَكِ يَقُولُ: لَمْ يَثْبُتْ عِنْدِي حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ أَوَّلَ مَرَّةٍ، ثُمَّ لَمْ يَرْجِعْ، وَقَدْ ثَبَتَ عِنْدِي حَدِيثُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ ذَكَرَهُ عُبَيْدُ اللهِ، وَمَالِكٌ، وَمَعْمَرٌ، وَابْنُ أَبِي حَفْصَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ - وَأُرَاهُ وَاسِعًا، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللهِ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ فِي الصَّلَاةِ لِكَثْرَةِ الْأَحَادِيثِ وَجَوْدَةِ الْأَسَانِيدِ ".
حافظ ثناء اللہ
سفیان بن عبدالملک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نزدیک عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کہ ”نبی ﷺ نے صرف پہلی مرتبہ رفع یدین کیا پھر دوبارہ نہیں کیا“ ثابت نہیں ہے اور میرے پاس تو رفع یدین کی حدیث ثابت ہے جس کو عبیداللہ، مالک، معمر اور ابن ابی حفصہ نے زہری سے، انہوں نے سالم کے واسطے سے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں اور میں اس میں وسعت سمجھتا ہوں۔ پھر عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کہنے لگے کہ احادیث کی کثرت اور ان کی اسانید کے جید ہونے کی وجہ سے میرا یہی خیال ہے، گویا میں نبی ﷺ کو نماز میں رفع یدین کرتے دیکھ رہا ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2533
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ انظر 2530»
حدیث نمبر: 2534
قَالَ الشَّيْخُ: وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ ⦗١١٤⦘ وَعُمَرَ فَلَمْ يَرْفَعُوا أَيْدِيَهُمْ إِلَّا عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ " أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَخْلَدٍ الضَّرِيرُ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ أَبِي إِسْرَائِيلَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ، فَذَكَرَهُ. أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ تَفَرَّدَ بِهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ وَكَانَ ضَعِيفًا عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ حَمَّادٍ يَرْوِيهِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ مُرْسَلًا، عَنْ عَبْدِ اللهِ مِنْ فِعْلِهِ غَيْرَ مَرْفُوعٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّوَابُ. قَالَ الشَّيْخُ: وَكَذَلِكَ رَوَاهُ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مُرْسَلًا مَوْقُوفًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ اور سیدنا ابوبکر صدیق اور سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی ہے، ان سب نے صرف نماز شروع کرتے وقت رفع یدین کیا تھا۔
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ نماز میں صرف تکبیر اولیٰ کے وقت رفع یدین کرتے تھے، پھر دوبارہ اس طرح کا کوئی کام نہ کرتے تھے (یعنی بعد میں رفع یدین نہیں کرتے تھے)۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2534
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه ابن الجوزي في الموضوعات 2/22»
حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، فَذَكَرَهُ قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ: فَهَذَا قَدْ رُوِيَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ الْوَاهِي، عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُهُمَا عِنْدَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " فَلَيْسَ الظَّنُّ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ يَخْتَارُ فِعْلَهُ عَلَى فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَيْسَ أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ أَوْ تَثْبُتُ بِهِ سُنَّةً لَمْ يَأْتِ بِهَا غَيْرُهُ ⦗١١٥⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ، يَعْنِي مَا رَوَوْهُ عَنْهُمَا مِنْ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرْفَعَانِ أَيْدِيَهُمَا فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ فَأَخَذَ بِهِ وَتَرَكَ مَا رَوَى عَاصِمٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ كَمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ، وَلَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ كَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُمَا مَرَّةً أَغْفَلَا فِيهِ رَفْعَ الْيَدَيْنِ وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ: ذَهَبَ عَنْهُمَا حِفْظُ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَفِظَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَكَانَتْ لَهُ الْحُجَّةُ.
حافظ ثناء اللہ
(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔
(ب) ایک اور سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ”رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی ﷺ کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔
زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قولِ قدیم میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اور اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا، یعنی نبی ﷺ نے ”رفع یدین کیا“ جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہو جائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔
اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله كلهم ثقات»
حدیث نمبر: 2536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةٍ قَالَ: صَلَّيْنَا فِي مَسْجِدِ الْحَضْرَمِيِّينَ فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ " فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَرَى أَبَاهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ذَاكَ الْيَوْمَ الْوَاحِدَ فَحَفِظَ ذَلِكَ، وَعَبْدُ اللهِ لَمْ يَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ: إِنَّمَا رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ⦗١١٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: هَذِهِ عِلَّةٌ لَا تَسْوِي سَمَاعَهَا؛ لِأَنَّ رَفْعَ الْيَدَيْنِ قَدْ صَحَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، ثُمَّ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَلَيْسَ فِي نِسْيَانِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفْعَ الْيَدَيْنِ مَا يُوجِبُ أَنَّ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَمْ يَرَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَدْ نَسِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْقُرْآنِ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ بَعْدُ وَهِيَ الْمُعَوِّذَتَانِ، وَنَسِيَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ عَلَى نَسْخِهِ وَتَرْكِهِ مِنَ التَّطْبِيقِ، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ قِيَامِ اثْنَيْنِ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَ النَّحْرِ فِي وَقْتِهَا، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ جَمْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَى الْأَرْضِ فِي السُّجُودِ، وَنَسِيَ كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَمَا خَلَقَ⦗١١٧⦘ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} [الليل: ٣] وَإِذَا جَازَ عَلَى عَبْدِ اللهِ أَنْ يَنْسَى مِثْلَ هَذَا فِي الصَّلَاةِ خَاصَّةً، كَيْفَ لَا يَجُوزُ مِثْلُهُ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ؟.
حافظ ثناء اللہ
حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمرو بن مرہ نے انہیں بیان کیا کہ ہم نے مسجدِ خضر میں نماز پڑھی تو علقمہ بن وائل نے مجھے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا) اور جب رکوع کیا تب بھی رفع یدین کیا۔ ابراہیم نے کہا: میں نہیں سمجھتا (خیال کرتا) کہ علقمہ کے والد (وائل) نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن کے علاوہ کسی اور دن دیکھا ہو، پس انہوں نے وہی یاد کر لیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کو یاد نہیں کیا، پھر ابراہیم نے کہہ دیا کہ رفع یدین تو صرف نماز شروع کرنے کے وقت ہے۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں، نیز اس مسئلہ میں بھی انہیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی ﷺ نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ عرفہ میں نبی ﷺ کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس اتفاقی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2536
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 1/ 291/ 13»
حدیث نمبر: 2537
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ: " مَا مَعْنَى رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَى رَفَعِهَمَا عِنْدَ الِافْتِتَاحِ تَعْظِيمًا لِلَّهِ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ يُرْجَى فِيهَا ثَوَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِثْلُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَغَيْرِهِمَا ".
حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔
(پھر فرمایا:) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2537
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 2538
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الصَّائِغُ، بِمَرْوَ ثنا أَبُو الْمُوَجَّهِ، أَخْبَرَنِي أَبُو نَصْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْخَطَّابِ السُّلَمِيُّ، وَكَانَ رَجُلًا صَالِحًا قَالَ: أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ يُونُسَ، ثنا وَكِيعٌ قَالَ: " صَلَّيْتُ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ فَإِذَا أَبُو حَنِيفَةَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى جَنْبِهِ يُصَلِّي، فَإِذَا عَبْدُ اللهِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ كُلَّمَا رَكَعَ وَكُلَّمَا رَفَعَ، وَأَبُو حَنِيفَةَ لَا يَرْفَعُ، فَلَمَّا فَرَغُوا مِنَ الصَّلَاةِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ لِعَبْدِ اللهِ: يَا أَبَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ، رَأَيْتُكَ تُكْثِرُ رَفْعَ الْيَدَيْنِ، أَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: يَا أَبَا حَنِيفَةَ قَدْ رَأَيْتُكَ تَرْفَعُ يَدَيْكَ حِينَ افْتَتَحْتَ الصَّلَاةَ فَأَرَدْتَ أَنْ تَطِيرَ؟ فَسَكَتَ أَبُو حَنِيفَةَ " قَالَ وَكِيعٌ فَمَا رَأَيْتُ جَوَابًا أَحْضَرَ مِنْ جَوَابِ عَبْدِ اللهِ، لِأَبِي حَنِيفَةَ.
حافظ ثناء اللہ
وکیع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے کوفہ کی مسجد میں نماز ادا کی، کیا دیکھتا ہوں کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ اللہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے لیکن رفع یدین نہیں کر رہے تھے، جبکہ عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ان کے پہلو میں نماز پڑھ رہے تھے۔ عبداللہ رحمہ اللہ جب بھی رکوع کرتے اور رکوع سے سر اٹھاتے تو رفع یدین کرتے اور ابوحنیفہ رحمہ اللہ نہیں کر رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے عبداللہ رحمہ اللہ سے فرمایا: ”اے ابوعبدالرحمن! میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو اتنا زیادہ رفع یدین کرتا ہے گویا اڑنے لگا ہے۔“ تو عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”اے ابوحنیفہ! میں نے آپ کو دیکھا، آپ نے نماز کے شروع میں رفع یدین کیا، کیا آپ اس وقت اڑنا چاہتے تھے؟“ ابوحنیفہ رحمہ اللہ یہ سن کر خاموش ہو گئے۔ وکیع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ رحمہ اللہ کو ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے سامنے حاضر جوابی سے زیادہ کسی کی حاضر جوابی نہیں دیکھی۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2538
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف جدا
تخریج حدیث «ضعيف جدا»
حدیث نمبر: 2539
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ بِمِنًى، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِلثَّوْرِيِّ " لِمَ لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي خَفْضِ الرُّكُوعِ وَرَفْعِهِ؟ " فَقَالَ الثَّوْرِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ " أَرْوِي لَكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗١١٨⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَيَزِيدُ رَجُلٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَحَدِيثُهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ " قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْهُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " كَأَنَّكَ كَرِهْتَ مَا قُلْتُ " قَالَ الثَّوْرِيُّ: نَعَمْ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " قُمْ بِنَا إِلَى الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَيُّنَا عَلَى الْحَقِّ " قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِيُّ لَمَّا رَأَى الْأَوْزَاعِيَّ قَدِ احْتَدَّ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان بن داؤد شاذکونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی رحمہ اللہ نے ثوری رحمہ اللہ سے کہا: آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟ ثوری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے، تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی ﷺ سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے؟ تو ثوری رحمہ اللہ نے کہا: جی ہاں! اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہو جاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ اوزاعی رحمہ اللہ غصہ ہو گئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2539
درجۂ حدیث محدثین: موضوع الشاذ
تخریج حدیث «موضوع الشاذ۔ كوفي كذا بان»
حدیث نمبر: 2540
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَرْذَعِيُّ بِبُخَارَا، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْدَوَيْهِ الْأَشْتِيخَنِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى رِوَايَةِ الْمَرْوَزِيِّ.
حافظ ثناء اللہ
ایک دوسری سند سے اس کے ہم معنی روایت بھی موجود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2540
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «موضوع۔ الطبري كذاب»