السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
حدیث نمبر: 2537
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قُلْتُ لِلشَّافِعِيِّ: " مَا مَعْنَى رَفْعِ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الرُّكُوعِ؟ فَقَالَ: مِثْلُ مَعْنَى رَفَعِهَمَا عِنْدَ الِافْتِتَاحِ تَعْظِيمًا لِلَّهِ، وَسُنَّةٌ مُتَّبَعَةٌ يُرْجَى فِيهَا ثَوَابُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَمِثْلُ رَفْعِ الْيَدَيْنِ عَلَى الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَغَيْرِهِمَا ".حافظ ثناء اللہ
ربیع بن سلیمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام شافعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ رکوع کے وقت رفع یدین کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا: ابتدائے نماز میں ان کو اٹھانے کا جو معنی ہے وہی اس سے مقصود ہے۔
(پھر فرمایا:) اس میں اللہ کی عظمت کا اظہار اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی اتباع ہے اور اللہ کی طرف سے ثواب کی امید بھی ہے اور یہ صفا مروہ پر ہاتھ اٹھانے کی طرح ہے۔