السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من لم يذكر الرفع إلا عند الافتتاح باب: اس شخص کی روایت کا بیان جس نے صرف نماز شروع کرتے وقت کے علاوہ ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رُمَيْحٍ ثنا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْمَرْوَزِيُّ بِمَرْوَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ الطَّبَرِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الشَّاذَكُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ يَقُولُ: اجْتَمَعَ الْأَوْزَاعِيُّ وَالثَّوْرِيُّ بِمِنًى، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ لِلثَّوْرِيِّ " لِمَ لَا تَرْفَعُ يَدَيْكَ فِي خَفْضِ الرُّكُوعِ وَرَفْعِهِ؟ " فَقَالَ الثَّوْرِيُّ ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ " أَرْوِي لَكَ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، ⦗١١٨⦘ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُعَارِضُنِي بِيَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، وَيَزِيدُ رَجُلٌ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ وَحَدِيثُهُ مُخَالِفٌ لِلسُّنَّةِ " قَالَ: فَاحْمَارَّ وَجْهُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، فَقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " كَأَنَّكَ كَرِهْتَ مَا قُلْتُ " قَالَ الثَّوْرِيُّ: نَعَمْ قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: " قُمْ بِنَا إِلَى الْمَقَامِ نَلْتَعِنُ أَيُّنَا عَلَى الْحَقِّ " قَالَ: فَتَبَسَّمَ الثَّوْرِيُّ لَمَّا رَأَى الْأَوْزَاعِيَّ قَدِ احْتَدَّ ".سلیمان بن داؤد شاذکونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سفیان بن عیینہ رحمہ اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ امام اوزاعی رحمہ اللہ اور سفیان ثوری رحمہ اللہ منیٰ میں اکٹھے ہوئے تو اوزاعی رحمہ اللہ نے ثوری رحمہ اللہ سے کہا: آپ رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت رفعِ یدین کیوں نہیں کرتے؟ ثوری رحمہ اللہ نے کہا کہ ہمیں یزید بن ابی زیاد نے حدیث بیان کی ہے، تو امام اوزاعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں تجھے زہری عن سالم عن ابیہ عن النبی ﷺ سے روایت بیان کرتا ہوں اور تو میرے سامنے یزید بن ابی یزید کی حدیث بیان کرتا ہے، حالانکہ یزید ضعیف راوی ہے اور اس کی حدیث سنت کے مخالف ہے؟ راوی فرماتے ہیں کہ سفیان ثوری رحمہ اللہ کا چہرہ سرخ ہو گیا تو اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: لگتا ہے آپ کو میری بات بری لگی ہے؟ تو ثوری رحمہ اللہ نے کہا: جی ہاں! اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: ہمارے ساتھ اس جگہ کھڑے ہو جاؤ، ہم ایک دوسرے پر لعنت کریں کہ ہم میں سے کون حق پر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ ثوری رحمہ اللہ نے جب دیکھا کہ اوزاعی رحمہ اللہ غصہ ہو گئے ہیں تو وہ مسکرانے لگے۔