حدیث نمبر: 2536
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ النَّضْرِ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، ثنا زَائِدَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، وَعُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَا: ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَحَدَّثَهُ عَمْرُو بْنُ مُرَّةٍ قَالَ: صَلَّيْنَا فِي مَسْجِدِ الْحَضْرَمِيِّينَ فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ يَفْتَتِحُ الصَّلَاةَ وَإِذَا رَكَعَ " فَقَالَ إِبْرَاهِيمُ: مَا أَرَى أَبَاهُ رَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا ذَاكَ الْيَوْمَ الْوَاحِدَ فَحَفِظَ ذَلِكَ، وَعَبْدُ اللهِ لَمْ يَحْفَظْ ذَلِكَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: إِبْرَاهِيمُ: إِنَّمَا رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ⦗١١٦⦘ لَفْظُ حَدِيثِ جَرِيرٍ قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ: هَذِهِ عِلَّةٌ لَا تَسْوِي سَمَاعَهَا؛ لِأَنَّ رَفْعَ الْيَدَيْنِ قَدْ صَحَّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَنِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ، ثُمَّ عَنِ الصَّحَابَةِ وَالتَّابِعِينَ وَلَيْسَ فِي نِسْيَانِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَفْعَ الْيَدَيْنِ مَا يُوجِبُ أَنَّ هَؤُلَاءِ الصَّحَابَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ لَمْ يَرَوَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ، قَدْ نَسِيَ ابْنُ مَسْعُودٍ مِنَ الْقُرْآنِ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْمُسْلِمُونَ فِيهِ بَعْدُ وَهِيَ الْمُعَوِّذَتَانِ، وَنَسِيَ مَا اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ كُلُّهُمْ عَلَى نَسْخِهِ وَتَرْكِهِ مِنَ التَّطْبِيقِ، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ قِيَامِ اثْنَيْنِ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الصُّبْحَ يَوْمَ النَّحْرِ فِي وَقْتِهَا، وَنَسِيَ كَيْفِيَّةَ جَمْعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَةَ، وَنَسِيَ مَا لَمْ يَخْتَلِفِ الْعُلَمَاءُ فِيهِ مِنْ وَضْعِ الْمِرْفَقِ وَالسَّاعِدِ عَلَى الْأَرْضِ فِي السُّجُودِ، وَنَسِيَ كَيْفَ كَانَ يَقْرَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ {وَمَا خَلَقَ⦗١١٧⦘ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَى} [الليل: ٣] وَإِذَا جَازَ عَلَى عَبْدِ اللهِ أَنْ يَنْسَى مِثْلَ هَذَا فِي الصَّلَاةِ خَاصَّةً، كَيْفَ لَا يَجُوزُ مِثْلُهُ فِي رَفْعِ الْيَدَيْنِ؟.
حافظ ثناء اللہ

حصین بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ ہم ابراہیم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عمرو بن مرہ نے انہیں بیان کیا کہ ہم نے مسجدِ خضر میں نماز پڑھی تو علقمہ بن وائل نے مجھے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ نے نماز شروع کرتے وقت دونوں ہاتھوں کو اٹھایا (یعنی رفع یدین کیا) اور جب رکوع کیا تب بھی رفع یدین کیا۔ ابراہیم نے کہا: میں نہیں سمجھتا (خیال کرتا) کہ علقمہ کے والد (وائل) نے رسول اللہ ﷺ کو اس دن کے علاوہ کسی اور دن دیکھا ہو، پس انہوں نے وہی یاد کر لیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے اس کو یاد نہیں کیا، پھر ابراہیم نے کہہ دیا کہ رفع یدین تو صرف نماز شروع کرنے کے وقت ہے۔
(ب) ابوبکر بن اسحاق فقیہ فرماتے ہیں کہ یہ ایسی علت ہے جو اپنے سماع کو نہیں پہنچ سکتی؛ کیونکہ رفع یدین نبی ﷺ سے ثابت ہے۔ اس کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم سے، پھر صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین سے بھی ثابت ہے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نسیان میں صرف رفع یدین ہی نہیں ہے کہ جس کو دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم نے نبی ﷺ کو کرتے دیکھا، بلکہ اس کے علاوہ اور بھی بہت سی باتیں ابن مسعود رضی اللہ عنہ بھول گئے تھے۔ جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ قرآن سے وہ چیز بھول گئے جس میں مسلمانوں نے کبھی اختلاف نہیں کیا اور وہ معوذتین ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اس میں نسیان کا شکار ہوئے جس کے منسوخ اور متروک ہونے پر تمام علماء کا اتفاق ہے یعنی تطبیق کرنے سے اور امام کے پیچھے دو آدمیوں کے کھڑے ہونے کی کیفیت میں، نیز اس مسئلہ میں بھی انہیں نسیان ہوا، جس کے بارے میں علماء میں کوئی اختلاف نہیں کہ نبی ﷺ نے عید الاضحی کے روز صبح کی نماز اپنے وقت پر ہی پڑھی۔ اسی طرح آپ رضی اللہ عنہ عرفہ میں نبی ﷺ کے جمع ہونے کی کیفیت میں بھی نسیان کا شکار ہوئے۔ آپ رضی اللہ عنہ اس اتفاقی مسئلہ کو بھی بھول گئے کہ نماز میں سجدے کی حالت میں کہنیوں اور بازوؤں کو زمین سے جدا رکھتے ہیں اور یہ بھی بھول گئے کہ رسول اللہ ﷺ کس طرح ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] پڑھتے تھے اور جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے متعلق یہ درست ہے کہ وہ نماز میں اس طرح بھولے ہیں تو ممکن ہے رفع یدین بھی بھول گئے ہوں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2536
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ اخرجه الدار قطني 1/ 291/ 13»