حدیث نمبر: 2535
أَخْبَرَنَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ، فَذَكَرَهُ قَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِيُّ: فَهَذَا قَدْ رُوِيَ مِنْ هَذَا الطَّرِيقِ الْوَاهِي، عَنْ عَلِيٍّ وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ هُرْمُزَ الْأَعْرَجُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَرْفَعُهُمَا عِنْدَ الرُّكُوعِ وَبَعْدَمَا يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " فَلَيْسَ الظَّنُّ بِعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ يَخْتَارُ فِعْلَهُ عَلَى فِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنْ لَيْسَ أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ مِمَّنْ يُحْتَجُّ بِرِوَايَتِهِ أَوْ تَثْبُتُ بِهِ سُنَّةً لَمْ يَأْتِ بِهَا غَيْرُهُ ⦗١١٥⦘ قَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ قَالَ: الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: وَلَا يَثْبُتُ عَنْ عَلِيٍّ وَابْنِ مَسْعُودٍ، يَعْنِي مَا رَوَوْهُ عَنْهُمَا مِنْ أَنَّهُمَا كَانَا لَا يَرْفَعَانِ أَيْدِيَهُمَا فِي شَيْءٍ مِنَ الصَّلَاةِ إِلَّا فِي تَكْبِيرَةِ الِافْتِتَاحِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَإِنَّمَا رَوَاهُ عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ فَأَخَذَ بِهِ وَتَرَكَ مَا رَوَى عَاصِمٌ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ كَمَا رَوَى ابْنُ عُمَرَ، وَلَوْ كَانَ هَذَا ثَابِتًا عَنْ عَلِيٍّ وَعَبْدِ اللهِ كَانَ يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ رَآهُمَا مَرَّةً أَغْفَلَا فِيهِ رَفْعَ الْيَدَيْنِ وَلَوْ قَالَ قَائِلٌ: ذَهَبَ عَنْهُمَا حِفْظُ ذَلِكَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَفِظَهُ ابْنُ عُمَرَ، فَكَانَتْ لَهُ الْحُجَّةُ.
حافظ ثناء اللہ

(ا) ایک دوسری سند سے بھی یہ روایت منقول ہے۔
(ب) ایک اور سند سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ انہوں نے نبی ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ ”رکوع میں جاتے وقت اور رکوع سے سر اٹھانے کے بعد رفع یدین کرتے تھے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس طرح گمان نہیں ہو سکتا کہ وہ نبی ﷺ کے عمل پر اپنے عمل کو ترجیح دیں۔
زعفرانی کہتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ اپنے قولِ قدیم میں فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایات ثابت نہیں کہ وہ دونوں صرف نماز کی ابتدا میں رفع یدین کرتے تھے اور اس کے علاوہ نہیں کرتے تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صرف عاصم بن کلیب اپنے والد سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں۔ انہوں نے اس روایت کو لے لیا لیکن جو روایت عاصم نے اپنے باپ سے اور انہوں نے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت لی ہے اسے چھوڑ دیا، یعنی نبی ﷺ نے ”رفع یدین کیا“ جیسا کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے اور اگر یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت بھی ہو جائے تو اس میں یہ اشتباہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہوں نے ایک ہی بار دیکھا ہو اور رفع یدین کی طرف توجہ نہ دی ہو۔
اگر کوئی کہنے والا یہ کہے کہ ان سے یہ یادداشت چلی گئی اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو یاد رکھا ہو تو اس کے لیے حجت بن سکتی ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2535
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ رجاله كلهم ثقات»