السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا حُسَيْنٌ يَعْنِي ابْنَ عَلِيٍّ الْجُعْفِيَّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبَانَ وَهُوَ زَوْجُ أُخْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنِ الْعَيْزَارِ بْنِ جَرْوَلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " اخْتَلَفَ النَّاسُ فِي الْقُرْآنِ عَلَى عَهْدِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَقُولُ لِلرَّجُلِ قِرَاءَتِي خَيْرٌ مِنْ قِرَاءَتِكَ " قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَجَمَعْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدِ اخْتَلَفُوا الْيَوْمَ فِي الْقِرَاءَةِ، وَأَنْتُمْ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ، فَقَدْ رَأَيْتُ أَنَّ أجْمَعَهُمْ عَلَى قِرَاءَةٍ وَاحِدَةٍ قَالَ: فَأَجْمَعَ رَأْيَنَا مَعَ رَأْيِهِ عَلَى ذَلِكَ " قَالَ: وَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " لَوْ وُلِّيتُ مِثْلَ الَّذِي وُلِّيَ لَصَنَعْتُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعَ ".سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں قرآن میں اختلاف کیا، حتیٰ کہ ایک آدمی دوسرے کو کہتا: میری قراءت، تیری قراءت سے بہتر ہے۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے ہم سب صحابہ کو جمع کر کے فرمایا: لوگ آج قراءت میں اختلاف کر چکے ہیں حالانکہ تم ان میں موجود ہو، میرا خیال ہے کہ میں انہیں ایک ہی قراءت پر جمع کر دوں۔ علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہماری رائے بھی حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی رائے کے موافق ہو گئی اور فرمانے لگے: جس طرح کا معاملہ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا، اگر اس طرح میرے ساتھ ہوتا تو ضرور میں بھی ویسے ہی کرتا جیسے عثمان رضی اللہ عنہ نے کیا ہے۔