حدیث نمبر: 2374
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ فِي وِلَايَتِهِ، وَكَانَ يَغْزُو مَعَ أَهْلِ الْعِرَاقِ قِبَلَ أَرْمِينِيَةَ وَأَذْرَبِيجَانَ فِي غَزْوِهِمْ ذَلِكَ الْفَرْجَ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ فَتَنَازَعُوا فِي الْقُرْآنِ حَتَّى سَمِعَ حُذَيْفَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنَ اخْتِلَافِهِمْ فِيهِ مَا ادَّعُوهُ، فَرَكِبَ حُذَيْفَةُ حَتَّى قَدِمَ عَلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: " يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَدْرِكْ هَذِهِ الْأُمَّةَ قَبْلَ أَنْ يَخْتَلِفُوا فِي الْقُرْآنِ اخْتِلَافَ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي الْكُتُبِ، فَفَزِعَ لِذَلِكَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَأَرْسَلَ إِلَى حَفْصَةَ بِنْتِ عُمَرَ أَنْ أَرْسِلِي إِلَيْنَا بِالصُّحُفِ الَّتِي جُمِعَ فِيهَا الْقُرْآنُ، فَأَرْسَلَتْ بِهَا إِلَيْهِ حَفْصَةُ، فَأَمَرَ عُثْمَانُ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، وَسَعِيدَ بْنَ ⦗٦٢⦘ الْعَاصِ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، وَعَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ أَنْ يَنْسَخُوهَا فِي الْمَصَاحِفِ " وَقَالَ لَهُمْ: " إِذَا اخْتَلَفْتُمْ أَنْتُمْ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي عَرَبِيَّةٍ مِنْ عَرَبِيَّةِ الْقُرْآنِ فَاكْتُبُوهَا بِلِسَانِ قُرَيْشٍ، فَإِنَّ الْقُرْآنَ أُنْزِلَ بِلِسَانِهِمْ، فَفَعَلُوا حَتَّى كُتِبَتِ الْمَصَاحِفُ، ثُمَّ رَدَّ عُثْمَانُ الصُّحُفَ إِلَى حَفْصَةَ، وَأَرْسَلَ إِلَى كُلِّ جُنْدٍ مِنْ أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَحْرِقُوا كُلَّ مُصْحَفٍ يُخَالِفُ الْمُصْحَفَ الَّذِي أَرْسَلَ بِهِ، وَذَلِكَ زَمَانَ أُحْرِقَتِ الْمَصَاحِفُ " لَفْظُ حَدِيثِ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، وَحَدِيثُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ بِمَعْنَاهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ: ابْنَ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، وَقَالَ فِي رِوَايَةِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَمْزَةَ: عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَارِثِ، وَلَمْ يَذْكُرْ رَدَّ الْمُصْحَفِ إِلَى حَفْصَةَ فِي رِوَايَةِ أَبِي الْوَلِيدِ، وَذَكَرَهَا فِي رِوَايَةِ ابْنِ حَمْزَةَ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ، فَكَتَبُوا الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ، فَبَعَثَ إِلَى كُلِّ أُفُقٍ بِمُصْحَفٍ، وَأَمَرَ بِمَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقُرْآنِ فِي كُلِّ صَحِيفَةٍ أَنْ تُمْحَى أَوْ تُحْرَقَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الْيَمَانِ وَعَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَتَيْنِ جَمِيعًا {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣].
حافظ ثناء اللہ

اور اس سند کے ساتھ زہری سے روایت ہے کہ مجھے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں ان کے پاس تشریف لائے، جب کہ وہ آرمینیہ اور آذربائیجان کی طرف اہل عراق کے ساتھ شریکِ جہاد تھے۔ وہ اہل عراق اور اہل شام کی سرحد پر برسرپیکار تھے تو وہاں اہل عراق اور اہل شام نے قرآن کی قراءت میں اختلاف کیا حتیٰ کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے اختلاف کا پتا چلا تو وہ سہم گئے اور فوراً مدینہ کو عازمِ سفر ہوئے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور عرض کیا: اے امیر المومنین! (خدارا) اس امت کی خبر لیجیے، اس سے پہلے کہ یہ یہود و نصاریٰ کی طرح قرآن میں اختلاف کرنے لگیں۔
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس واقعہ سے حیران ہو گئے اور ام المومنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیجا کہ وہ مصحف ارسال فرما دیں جس میں قرآن جمع کیا گیا ہے۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے وہ مصحف سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدنا زید بن ثابت، سیدنا سعید بن عاص، سیدنا عبداللہ بن زبیر اور سیدنا عبدالرحمن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ اس قرآن کی کاپیاں تیار کریں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے انہیں فرمایا کہ جب تمہارا سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے قرآن کی عربی میں اختلاف ہو جائے تو اس کو لسانِ قریش میں لکھو کیونکہ قرآن انہی کی زبان اور محاورے پر نازل ہوا ہے۔ انہوں نے ایسا ہی کیا حتیٰ کہ مصاحف تیار ہو گئے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف انہیں واپس کر دیا اور مسلمانوں کے لشکروں میں سے ہر لشکر کی طرف ایک ایک مصحف روانہ کیا اور انہیں حکم دیا کہ یہ جو مصحف آپ کو بھیجا گیا ہے اس کے خلاف کوئی بھی مصحف ہو تو اس کو جلا دیا جائے اور اس دور میں مصاحف کو جلایا گیا۔
ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے اس طرح کی روایت منقول ہے مگر اس میں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا مصحف واپس لوٹانے کا ذکر نہیں ہے۔
ابن حمزہ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے صحیفوں کو مصاحف میں لکھا، پھر ہر ملک میں ایک ایک مصحف بھیج دیا اور ان کے علاوہ باقی ہر صحیفے کی قراءت کے بارے میں حکم دیا کہ یا تو مٹا دیا جائے یا جلا دیا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں ابوالیمان سے اس کو روایت کیا ہے۔ ان کے علاوہ موسیٰ بن اسماعیل اور ابراہیم بن سعد رحمہ اللہ سے بھی روایت کیا ہے۔ اس میں ہے: ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کچھ ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچ کر دکھایا۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2374
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ اخرجه البخاري 2807»