السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ يَزِيدَ الْفَارِسِيِّ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قُلْتُ لِعُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مَا حَمَلَكُمْ أَنْ عَمَدْتُمْ إِلَى بَرَاءَةَ، وَهِيَ مِنَ الْمِئِينِ وَإِلَى الْأَنْفَالِ وَهِيَ مِنَ الْمَثَانِي، فَقَرَنْتُمْ بَيْنَهُمَا وَلَمْ تَجْعَلُوا بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُمُوهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مِمَّا يَنْزِلُ عَلَيْهِ مِنَ السُّوَرِ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا وَكَذَا، فَإِذَا أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ الْآيَاتُ يَقُولُ: " ضَعُوا هَذِهِ الْآيَاتِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا " فَإِذَا نَزَلَتْ عَلَيْهِ السُّورَةُ " يَقُولُ: " ضَعُوا هَذِهِ فِي مَوْضِعِ كَذَا وَكَذَا " وَكَانَتِ الْأَنْفَالُ أَوَّلَ مَا أُنْزِلَ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ، وَكَانَتْ بَرَاءَةُ مِنْ آخِرِ الْقُرْآنِ نُزُولًا، وَكَانَتْ قِصَّتُهَا تُشْبِهُ قِصَّتَهَا، فَقُبِضَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُبَيِّنْ أَمْرَهَا فَظَنَنْتُ أَنَّهَا مِنْهَا، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ قَرَنْتُ بَيْنَهُمَا، وَلَمْ أَجْعَلْ بَيْنَهُمَا سَطْرًا فِيهِ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، وَوَضَعْتُهَا فِي السَّبْعِ الطِّوَالِ " فَفِي هَذَا مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي مَصَاحِفِ الصَّحَابَةِ مَعَ دَلَالَةِ الْمُشَاهَدَةِ، وَقَدْ رُوِّينَا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّهَا إِنَّمَا كُتِبَتْ فِي فَوَاتِحِ السُّوَرِ لِنُزُولِهَا، وَعِنْدَ نُزُولِهَا كَانَ يُعْلَمُ انْقِضَاءُ سُورَةٍ وَابْتِدَاءُ أُخْرَى ".(ا) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے کہا: ”تمہیں کس چیز نے ابھارا کہ تم نے سورہ توبہ کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات دو سو کے قریب ہیں، اور سورہ انفال کو، جو ان سورتوں میں سے ہے جن کی آیات اسی (٨٠) کے قریب ہیں، ملا دیا ہے اور تم نے ان دونوں کے درمیان سطر بھی نہیں چھوڑی جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] لکھا ہو اور تم نے اسے سات لمبی سورتوں میں رکھا ہے؟“ تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ پر وہ سورتیں نازل ہوتی تھیں جن میں فلاں فلاں چیزیں ذکر کی جاتی تھیں۔ جب آپ ﷺ پر آیات نازل ہوتیں تو آپ فرماتے: ”ان آیات کو فلاں فلاں جگہ پر رکھو“ اور جب آپ ﷺ پر کوئی (مکمل) سورت نازل ہوتی تو فرماتے: ”اس سورت کو فلاں جگہ پر رکھو (لکھو)“ اور سورہ انفال مدینہ میں نازل ہونے والی ابتدائی سورتوں میں سے ہے اور سورہ توبہ نزول کے اعتبار سے آخری سورتوں میں سے ہے اور اس کا موضوع بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ (یعنی ان دونوں سورتوں کا مضمون ملتا جلتا ہے، لیکن جب رسول اللہ ﷺ فوت ہو گئے اور ان کے معاملے کو واضح نہ کیا تو میں نے گمان کیا شاید یہ (توبہ) بھی اس (انفال) کا حصہ ہے، اس لیے میں نے ان دونوں کو قریب قریب رکھا اور میں نے ان کے درمیان سطر نہیں چھوڑی کہ جس میں ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ﴾ لکھتا اور اس کو بھی میں نے سات لمبی سورتوں میں رکھا۔)“
(ب) اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف میں جو بسم اللہ لکھی گئی تھی، یہ مشاہدے کی بنا پر لکھی گئی ہے۔
(ج) ہم وہ روایت بھی ذکر کر چکے ہیں جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ (بسم اللہ) سورتوں کے شروع میں ان کے نزول کی وجہ سے لکھی جاتی ہے اور نزول کے وقت یہ پتا چل جاتا تھا کہ ایک سورہ ختم ہو گئی ہے اور دوسری شروع ہو چکی ہے۔