السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على أن ما جمعته مصاحف الصحابة رضي الله عنهم كله قرآن، وبسم الله الرحمن الرحيم في فواتح السور سوى سورة براءة من جملته باب: اس دلیل کا بیان کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مصاحف نے جسے جمع کیا وہ سب قرآن ہے، اور سورہ توبہ کے سوا سورتوں کے آغاز میں ”بسم الله الرحمن الرحيم“ بھی اسی کا حصہ ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو سَهْلٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرَوَيْهِ بْنِ أَحْمَدَ الْكُشْمِيهَنِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَبِيبٍ إِمْلَاءً، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: وَثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، ثنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ وَزَادَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي خَارِجَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: " فَقَدْتُ آيَةً مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْأَحْزَابِ قَدْ كُنْتُ أَسْمَعُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا، فَالْتَمَسْتُهَا، فَلَمْ أَجِدْهَا مَعَ أَحَدٍ إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ، قَوْلُ اللهِ تَعَالَى {مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ} [الأحزاب: ٢٣] ".(ا) ایک دوسری سند کے ساتھ سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت منقول ہے۔
(ب) ابن شہاب رحمہ اللہ نے یہ اضافہ کیا ہے کہ مجھے خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ سیدنا زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”مجھے سورہ الاحزاب کی وہ آیت نہیں مل رہی تھی جس کو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا، آپ ﷺ اس کی تلاوت کیا کرتے تھے، لہٰذا میں نے اس کو تلاش کیا تو وہ مجھے صرف سیدنا خزیمہ انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس سے ملی جن کی گواہی کو رسول اللہ ﷺ نے دو مردوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ﴾ [سورة الأحزاب: 23] ”مومنوں میں سے کئی ایک ایسے ہیں جنہوں نے اللہ سے جو وعدہ کیا اس کو سچ کر دکھایا۔“ کی وجہ سے۔